اسلام میں مسجد کی حیثیت‘ مسئلہ کو وسیع تر بنچ سے رجوع کرنے سے انکار

سپریم کورٹ نے آج 1994 کے اپنے فیصلہ میں کہی گئی اس بات پر دوبارہ غور کرنے کے مسئلہ کو 5 رکنی دستوری بنچ سے رجوع کرنے سے انکار کردیا کہ نماز کی ادائیگی کے لئے اسلام میں مسجد لازمی نہیں ہے۔ یہ مسئلہ ‘ ایودھیا زمینی تنازعہ کی سماعت کے دوران اٹھا تھا۔ ایک کے مقابل 2 ججوں کے اکثریتی فیصلہ میں چیف جسٹس دیپک مشرا کی زیرصدارت عدالت عظمیٰ کی ایک بنچ نے کہا کہ دیوانی مقدمہ کا فیصلہ شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ بنچ نے کہا کہ سابقہ فیصلہ کا اس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ جسٹس اشوک بھوشن نے جنہوں نے اپنے لئے اور چیف جسٹس کی جانب سے فیصلہ پڑھ کر سنایا‘ کہا کہ انہیں یہ دیکھنا ہوگا کہ 5 رکنی بنچ نے 1994میں صادر کردہ فیصلہ میں کس سیاق و سباق میں یہ بات کہی تھی۔ جسٹس ایس عبدالنذیر نے دونوں ججوں سے اختلاف کیا اور کہا کہ اسلام میں نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد کے لازمی ہونے کے بارے میں فیصلہ مذہبی عقائد کی بنیاد پر کیا جانا چاہئے اور اس پر تفصیلی غوروخوض کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بچیوں کی ختنہ سے متعلق سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کا حوالہ دیا اور کہا کہ موجودہ معاملہ کی وسیع تر بنچ پر سماعت ہونی چاہئے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اب اراضی تنازعہ سے متعلق دیوانی مقدمہ کی سماعت 29 اکتوبر کو ایک نوتشکیل شدہ سہ رکنی بنچ پر کی جائے گی کیونکہ جسٹس مشرا 2 اکتوبر کو چیف جسٹس آف انڈیا کے عہدہ سے سبکدوش ہوجائیں گے۔یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا کہ اسلام میں نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد کے لازمی ہونے کا مسئلہ اس وقت اٹھا تھا جب چیف جسٹس آف انڈیا مشرا کی زیرصدارت سہ رکنی بنچ ‘ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے 2010کے فیصلہ کے خلاف دائر کردہ متعدد اپیلوں کی سماعت کررہی تھی جس کے ذریعہ رام جنم بھومی۔ بابری مسجد کی متنازعہ اراضی 3 حصوں میں تقسیم کردی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کی سہ رکنی بنچ نے ایک کے مقابل 2 ججوں کی اکثریتی رولنگ میں حکم دیا تھا کہ 2.77 ایکڑ کی اراضی کو تینوں فریقین سنی وقف بورڈ‘ نرموہی اکھاڑہ اور رام للا میں مساوی طورپر تقسیم کردیا جائے۔ جسٹس بھوشن نے کہا کہ سابقہ رولنگ کہ اسلام میں نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد لازمی ہے‘ حصول اراضی کے سیاق و سباق میں صادر کی گئی تھی اور حکومت کو تمام مذاہب کا مساوی طورپر احترام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دستوری بنچ کا فیصلہ حصول ِ اراضی تک محدود تھا۔ آئی اے این ایس کے بموجب بنچ بعض مسلمانوں کی متعدد درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنارہی تھی جنہوں نے یہ مانگ کی تھی کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے 2010 کے فیصلہ جس میں ملکیت کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا تھا‘ اس مسئلہ کی دستوری بنچ پر سماعت کی جائے کیونکہ یہ سپریم کورٹ کی 5 رکنی بنچ کی 1994 میں دی گئی رولنگ پر دوبارہ غور کرنے سے متعلق ہے جس میں کہا گیا تھا کہ نماز کی ادائیگی کے لئے اسلام میں مسجد لازمی نہیں۔ درخواست گذاروں نے استدلال پیش کیا تھا کہ 2010میں ملکیت کے مقدمہ کا فیصلہ کرتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بنچ نے 1994میں 5 رکنی دستوری بنچ کے فیصلہ کا حوالہ دیا تھا۔

جواب چھوڑیں