اسمبلی تحلیل کے ساتھ ہی تلنگانہ میں ضابطہ اخلاق نافذ:رجت کمار

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے آج اس بات کی وضاحت کی کہ جس ریاست کی اسمبلی کو قبل از میعاد تحلیل کیا جاتا ہے اس ریاست میں فوری اثر کے ساتھ ضابطہ اخلاق نافذ ہوجاتا ہے۔ اس کا اطلاق تلنگانہ پر بھی ہوتا ہے جہاں 6 ستمبر کو ریاست کی اسمبلی کو تحلیل کردیا گیا ہے۔ ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے ریاستی اسمبلی کو تحلیل کئے جانے کے بعد سے ہی اس ریاست میں ضابطہ اخلاق نافذ ہوچکا ہے اور یہ ضابطہ اخلاق، ریاست میں اس وقت تک نافذ رہے گا جب تک نئی حکومت جائزہ نہیں لیتی۔ کمیشن نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نگرانکار حکومت کو صرف روز مرہ کے کام انجام دینا ہوگا اور یہ حکومت، اہم اور پالیسی ساز جیسے فیصلے کرنے کی مجاز نہیں رہے گی۔ دو روز قبل میٹرو ریل کی افتتاحی تقریب میں نگرانکار وزیر کے تارک راما رائو کی مکمل اختیارات کے ساتھ شرکت کی شکایت وصول ہونے کے بعد الیکشن کمیشن آف انڈیا نے جمعرات کو یہ وضاحت کی ہے۔ سکریٹریٹ میں الیکشن 2018کے میڈیا سل کے افتتاح کے بعد چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) تلنگانہ ڈاکٹر رجت کمار نے صحافیوں سے کہا کہ مثالی ضابطہ اخلاق، نگرانکار حکومت پر بھی لاگو ہوگا۔ ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے سبب نگرانکار حکومت، نئی اسکیم یا نئے پراجکٹ یا نئی سرگرمیاں شروع نہیں کرسکتی۔ ڈاکٹر رجت کمار نے یہ بات کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عہدیدار اور وزرا پر انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر امتناع رہے گا۔ علاوہ ازیں وزرا سرکاری گاڑیاں اور دیگر سہولتوں سے بھی استفادہ نہیں کرپائیں گے۔ ڈاکٹر رجت کمار نے مزید کہا کہ آج کی تاریخ تک 28,58,754 ادعا جات اور اعتراضات وصول ہوئے ہیں جن میں سے 12,04,654کو قبول کرتے ہوئے 1,64,996 کو مسترد کردیا گیا۔ 14,89,104 درخواستوں کو تنقیح کے لئے زیر التوا رکھا گیا ہے۔ ووٹر لسٹ میں دو لاکھ 68 ہزار 365 ایسے افراد کے ناموں کی نشاندہی کی گئی جو ،اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ ان میں سے 77,499 متوفی افراد کے ناموں کو فہرست سے خارج کردیا گیا جبکہ ایک لاکھ 90 ہزار 868 نام زیر التوا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کی تیاریوں کے کام اطمینان بخش انداز میں جاری ہیں اور یہ کام شیڈول کے مطابق انجام دئے جارہے ہیں۔ ڈاکٹر رجت کمار نے کہا کہ ناموں کا اندراج اور اخراج، جاری رہنے والا عمل ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ فہرست رائے دہندگان میں اپنے نام تلاش کریں۔ نام کی عدم موجودگی پر فوری اپنے نام کا اندراج کرایں۔ اس موقع پر ایڈیشنل سی ای او امراپالی اور دیگر موجود تھے۔

جواب چھوڑیں