امریکہ ‘ اسرائیل فلسطینی تنازعہ کا دو ریاستی حل چاہتا ہے

اقتدار میں آنے کے بعد سے صدر ٹرمپ کا دو ریاستی حل کی حمایت میں یہ پہلا باضابطہ بیان ہے جسے تجزیہ کار خاصی اہمیت دے رہے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کا دو ریاستی حل چاہتے ہیں۔ کل نیویارک میں اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن سے متعلق اپنے منصوبے کا دو سے تین ماہ میں اعلان کرے گی۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس کی سائیڈ لائن پر ہونے والی ملاقات میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ دو ریاستی حل کو پسند کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کا یہی بہترین حل ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد سے صدر ٹرمپ کا دو ریاستی حل کی حمایت میں یہ پہلا باضابطہ بیان ہے جسے تجزیہ کار خاصی اہمیت دے رہے ہیں۔ عالمی برادری اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتی آئی ہے. صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے سے قبل امریکہ بھی تنازع کے دو ریاستی حل کا حامی رہا ہے۔ لیکن ٹرمپ حکومت کا موقف ہے کہ وہ دو ریاستی حل کی صرف اسی صورت میں حمایت کرے گی جب یہ تنازعہ کے دونوں فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ وہ صرف اسی صورت میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام قبول کریں گے جب اس کے پاس عسکری طاقت نہ ہو اور وہ اسرائیل کو یہودیوں کی ریاست تسلیم کرے۔اسرائیل ان فلسطینی مقبوضات پر بھی اپنا قبضہ برقرار رکھنے پر اصرار کرتا آیا ہے جس پر اس نے 1967ء کی جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا اور جنہیں فلسطینی اپنی مستقبل کی ریاست کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ بعد ازاں چہارشنبہ کی شام نیویارک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال سے متعلق کیے جانے والے ایک سوال پر صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر مسئلے کے ایک ریاستی حل سے متعلق اپنی انتظامیہ کا موقف دہرایا۔ امریکی صدر نے کہا کہ اگر تنازعہ کے دونوں فریقین کی ترجیح ایک ریاستی حل ہے تو وہ اس پر راضی ہیں اور اگر وہ دو ریاستی حل چاہتے ہیں تو وہ اس پر بھی راضی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران اسرائیل فلسطین تنازعہ کا حل نکالنا ان کا خواب ہے جس کی جانب ان کے بقول خاصی پیش رفت ہوچکی ہے۔ صدر کے بقول وہ یہ کام اپنے دوسرے دورِ صدارت تک ٹالنا نہیں چاہتے کیوں کہ وہ اپنے دوسرے دورِ صدارت میں “اور دوسرے کام کریں گے۔”امریکی صدر کی پہلی مدتِ صدارت 2021ء کے آغاز میں پوری ہوگی۔ لیکن گزشتہ سال دسمبر میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور پھر امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کے بعد ان خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ آیا امریکہ دونوں فریقین کے درمیان کوئی مصالحت کرانے کے قابل رہا بھی ہے یا نہیں۔سفارت خانے کی یروشلم منتقلی کے فیصلے پر فلسطینی انتہائی برہم ہیں اور فلسطینی قیادت امریکہ کو تنازعہ کا فریق قرار دے کر اس کی مصالحت قبول کرنے سے انکار کرچکی ہے۔فلسطینی حکام کا موقف ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے تنازعہ کے حل کی کسی کوشش کا حصہ نہیں بنیں گے۔

جواب چھوڑیں