اڈلٹری پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم

سپریم کورٹ کے فیصلہ کو جس میں زنا کاری کو جرم قرار نہیں دیا گیا اس کا بڑے پیمانہ پر خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ قانون دانوں اور جہد کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک نوآبادیاتی دور کا قانون ہے جس کے ذریعہ عورت کے ساتھ اپنے شوہروں کی املاک جیسا برتائو کیا جاتا تھا۔ پانچ رکنی دستوری بنچ جس کے سربراہ چیف جسٹس دیپک مشرا نے اتفاق رائے سے تعزیرات ہند کی دفعہ 497کو ختم کردیا جس میں زنا کاری کو جرم قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے خواتین کو مساوی مواقع دینے سے گریز کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے فیصلہ کو بہترین انصاف قرار دیا جس سے ایک عجیب وغریب قانون کو ختم کردیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اس قانون کو ختم کرتے ہوئے ایک اور بہترین فیصلہ سنایا گیا ہے۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 497کے تحت اسے ختم کردیا گیا ہے جس میں خواتین کو اپنے شوہروں کی جائیداد کے طورپر استعمال کیا جاتا تھا۔ حرام کاری‘ جرم اس وقت ہے (جب شخص جو کسی اور عورت کے ساتھ محو خواب ہوتا ہے) زنا کاری سے طلاق کی بنیاد بن سکتی ہے لیکن یہ مجرمانہ حرکت نہیں ہے۔ بھوشن نے یہ بات اپنے ٹویٹر پر تحریر کی۔ کانگریس ایم پی اور صدر ویمنس ونگ سشمیتا دیو نے ان کے نقطہ نظر سے اتفاق کیا۔ زنا کاری کو مجرمانہ قرار نہ دیتے ہوئے ایک عمدہ فیصلہ کیا گیا ہے اور یہ ایک ایسا قانون بھی ہے جس سے خواتین کو اپنے زناکار شوہر کی جانب سے مقدمہ دائر کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی وہ خود اپنے طورپر کسی کے خلاف مقدمہ کرسکتا ہے۔ اگر وہ زنا کاری میں ملوث ہو کیونکہ یہ ناانصافی پر مبنی ہوگا۔ نیشنل کمیشن آف ویمن چیف ریکھا شرما نے فیصلہ کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اسے بہت پہلے ہی ختم کردیا جانا تھا۔ یہ برطانوی دور کا قانون ہے۔ اگرچیکہ اسے برطانیہ نے بہت زمانہ قدیم قائم کیا تھا جبکہ ہم اس کے ساتھ آج تک وابستہ تھے۔ سماجی جہاد کار رنجنا کماری کے بموجب خواتین پر مردوں کی اجارہ داری ناقابل قبول ہے۔ ہم سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہیں جس نے 158سالہ قدیم قانون کو ختم کردیا ہے جبکہ زنا کاری کو مجرمانہ قرار نہیں دینا چاہیئے تھا۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ زنا کاری کو شہری غلطی کے طورپر برتائو کئے جانے کا سلسلہ برقرار رکھنا چاہیئے اوریہ شادی اور طلاق کے خاتمہ کی بنیاد نہیں بن سکتی ہے اور نہ ہی اس کیلئے کوئی سوشل لائسنس دیا جاسکتا ہے جس سے گھر تباہ ہوسکتا ہے۔ جسٹس مشرا نے یہ بات کہی۔ 158سالہ قدیم تعزیرات ہند کی دفعہ 497میں کہا گیا ہے کہ جو کوئی جنسی روابط ایسے شخص سے کرتا ہے جسے وہ جانتا یا جانتی ہو اس کے تعلق سے وجہ کے بارے میں یقین کیا جانا چاہیئے کہ وہ بیوی یا اور کوئی شخص ہو۔ کسی بھی منظوری کے بغیر مرد کو راغب نہیں کیا جاسکتا۔ اس قسم کے جنسی عمل کو جرم یا عصمت ریزی نہیں قرار دیا جاسکتا اور نہ ہی یہ حرام کاری کا مجرم قرار دیا جائے گا۔ حرام کاری یا زنا کی سزا زیادہ سے زیادہ پانچ سال ہے یا پھر جرمانہ بھی اس کے ساتھ عائد کیا جاسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں