ثانیہ مرزا صنفی مساوات کی حامی

ٹینس کھلاڑی اور اقوام متحدہ جنوبی ایشیا کی خیر سگالی سفیر ثانیہ مرزا بہت جلد ماں بننے والی ہیں جن کا ماننا ہے کہ صنفی مساوات دنیا کو ایک بہتر جگہ بنا سکتا ہے۔تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی اس مقام کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں بہت وقت لگے گا۔ثانیہ مرزا کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ ’مشکل ہے لوگوں کے دلوں سے ایک ایسی بات نکالنا جو شاید شروعات سے ہی ان کی سوچ کا حصہ رہی ہوں، میرے لیے مساوات ایک عورت کا خود کو کسی سے کم تر نہ سمجھنا ہے، اس دنیا میں ایسی بہت سی خواتین ہیں جن کا ماننا ہے کہ وہ مردوں کے مقابلے میں کمزور ہیں، اور وہ شاید کچھ کہیں گی بھی نہیں کیوں کہ ان کے دلوں میں ڈر ہے، وہ لڑ نہیں سکتی۔انہوں نے مزید کہا کہ ’برابری کا مطلب یہ نہیں کیآپ وہی کام کریں جو مرد کررہے ہیں، یہ کوئی مقابلہ نہیں اور نہ ہی اس سے ان باتوں کا اندازہ لگایا جائے گا کہ کون بہتر کام کررہا ہے، اصل مقصد زندگی میں برابری کے مواقع ملنا اور عزت و احترام ملنا ہے۔ثانیہ کے مطابق میں نے مساوات کے لیے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے، یہ مسئلہ صرف ایک ملک، ریاست یا نسل کا نہیں، مجھے امید ہے لوگ بیٹی کے پیدا ہونے پر بھی ویسا ہی جشن منائیں جیسا بیٹے کے پیدا ہونے پر مناتے ہیں، تب ہی ہمارا معاشرہ، انصاف پر مبنی معاشرہ بنے گا۔

جواب چھوڑیں