سشما سوراج ۔ جواد ظریف کی نیویارک میں ملاقات

وزیر خارجہ سشما سوراج نے یہاں اپنے ایرانی ہم منصب جواد ظریف سے ملاقات کی اور باہمی مسائل بشمول خام تیل کے بڑے برآمدکنندہ ملک پر امریکی تحدیدات پر تبادلہ خیال کیا جن کا نومبر سے نفاذ عمل میں آئے گا۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 73 ویں اجلاس کے وقفوں کے دوران دونوں قائدین نے یوروپی یونین کے ساتھ ایران کے نیوکلیر معاہدہ کے موقف پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے نامہ نگاروں کو کل یہ بات بتائی تھی کہ ہندوستان ان تمام فریقین کے ساتھ تحدیدات کے مسئلہ پر بات چیت میں مصروف ہے جو اس عمل کا ایک حصہ ہیں اور ایران بھی ان میں شامل ہے لہٰذا یہ فطری امر ہے کہ ملاقات کے دوران تحدیدات کا مسئلہ بھی زیربحث رہا۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے موقف سے آگاہی حاصل کی کہ وہ اس مرحلہ پر کس موڑ پر کھڑے ہیں۔ رویش کمار نے کہا کہ ہم نے ان کی بات سنی اور انہیں اپنے موقف سے آگاہ کیا۔ یہ سمجھنا اہم ہے کہ جہاں تک ایران پر تحدیدات کا معاملہ ہے‘ ہم دیگر شراکت داروں اور ممالک مثلاً امریکہ سے بھی بات چیت کررہے ہیں۔ انہوں نے ہند۔ امریکہ کے درمیان حالیہ مختتم2+2 ڈائیلاگ کا حوالہ دیا جس کے دوران واشنگٹن کو نئی دہلی کے اندیشوں اور توقعات سے واقف کرایا گیا تھا۔ رویش کمار نے کہا کہ ہم نے محسوس کیا تھا کہ امریکہ ہمارے موقف کو سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنی توانائی اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے مصروفِ عمل ہے۔

جواب چھوڑیں