مرکز نے رافیل پر اعتراض کرنے والے عہدیدار کو برطرف کردیا: سرجے والا

کانگریس نے آج نریندرمودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایک سینئر عہدیدار کو برطرف کردیا تھا جس نے رافیل جیٹ معاملت میں ہونے والے نقصان کا اشارہ دیاتھا اور اس کے اعلیٰ عہدیدار کو جس نے اسے برطرف کردیا تھا انعام سے نوازا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ بدعنوانیوں کی پردہ پوشی کرنے پر اس کی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ پارٹی ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے یہ بھی کہا ہکہ بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے اتحادی حکومت نے کانگریس زیر قیادت یو پی اے اتحاد حکومت کی جانب سے 36جنگی جیٹس کی دفاعی اغراض کیلئے فرانس سے خریدی پر جو معاملت کی تھی اس کے مقابلے سابق قیمت جو 126جیٹ طیاروں کی خریدی پر 300فیصد زائد ادائیگی کی ہے۔ مودی حکومت نے معاملہ کی نشاندہی کرنے والے جوائنٹ سکریٹری (ائیر) کو عہدہ سے ہٹا دیا جس نے 36رافیل جیٹس کی خریدی پر اضافی قیمت ادائیگی سے 300فیصد سرکاری خزانہ کو ہونے والے نقصان کے بارے میں استفسار کیا تھا۔ ڈائرکٹر جنرل سمیتا ناگراج جنہوں نے جوائنٹ سکریٹری کو ہٹا دیا تھا‘ انہیں یونین پبلک سرویس کمیشن (یو پی ایس سی) کا ممبر بنادیا۔ اس سے مودی حکومت کرپشن کی حوصلہ افزائی پر پسندیدگی ظاہر کی۔ سرجے والا نے یہ بات انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کو منسلک کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں کہی۔ اخبار نے اپنی اطلاع میں بتایا تھا کہ تقریباً معاملت پر دستخط سے ایک ماہ قبل جب ستمبر 2016میں اس وقت کے وزیر دفاع منوہرپاریکر اور ان کے فرنچ ہم منصب نے نئی دہلی میں کئے تھے۔ جوائنٹ سکریٹری اکویزیشن مینیجر (ائر) وزارت دفاع (ایم او ڈی) جو معاہدہ پر بات چیت کمیٹی کا حصہ تھے یہ سوال اٹھایا کہ قیمت میں کیوں تبدیلی ہوئی اور اپنے اغراض کو درج کیا۔ اعتراضات کی وجہ سے کابینہ نوٹ کی منظوری اور دستخط میں تاخیر ہوئی اور یہ اسی وقت ممکن ہوسکا جب اعتراضات کو مسترد ایک اور سینئر ایم او ڈی عہدیدار ڈائرکٹر جنرل (اکویزیشن) نے کیا۔ حکومت سے حکومت کی معاملت 36رافیل ایرجیٹس کا اعلان مودی کی جانب سے ان کے دورہ پیرس دوران اپریل 2015میں کیا گیا۔ قبل ازیں 136رافیل جیٹس کی جو تجویز یوپی اے حکومت کے دور میں ہوئی تھی اسے برخواست کردیا گیا۔

جواب چھوڑیں