چین پر وسط مدتی امریکی انتخابات میں مداخلت کا الزام

اجلاس کا موضوع بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی روک تھام تھا اور صدر ٹرمپ کا چین سے متعلق اظہارِ خیال اجلاس کے شرکا کے لیے خاصا غیر متوقع اور موضوع سے ہٹ کر تھا۔امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے کہ چین امریکہ میں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں دخل اندازی کر رہا ہے۔ نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس سے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چین ان کی تجارتی پالیسی کا مخالف ہے اور اسی لیے چاہتا ہے کہ وہ کانگریس کے آئندہ انتخابات ہار جائیں۔واضح رہے کہ رواں سال نومبر میں ہونے والے انتخابات میں صدر ٹرمپ بذاتِ خود حصہ نہیں لے رہے لیکن یہ انتخابات اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا ان کی جماعت ری پبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھ پائے گی یا نہیں۔ نومبر میں کانگریس کے ایوانِ نمائندگان کی تمام نشستوں جب کہ سینیٹ کی ایک تہائی نشستوں پر انتخاب ہوگا۔ امریکی سینیٹ میں اس وقت ری پبلکنز کو محض ایک ووٹ کی برتری حاصل ہے۔ اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے اس الزام کی مزید وضاحت نہیں کی کہ چین کس طرح امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان پر چین کا فوری ردِ عمل سامنے آیا اور سلامتی کونسل کے اجلاس میں شریک چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے اسی وقت اس الزام کو مسترد کردیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ان کے ملک نے کبھی کسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کی اور وہ نہ ہی کبھی ایسا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت چین پر غیر ضروری الزامات کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔ صدر ٹرمپ کی حکومت کی تجارتی پالیسیوں کے باعث دنیا کی دونوں بڑی معاشی طاقتوں کے درمیان عملاً تجارتی جنگ چھڑ چکی ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کی برآمدات پر بھاری ٹیکس عائد کرچکے ہیں۔ چہارشنبہ کو سلامتی کونسل سے اپنے خطاب میں امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ چین نہیں چاہتا کہ وہ نومبر کا انتخاب جیتیں کیوں کہ صدر ٹرمپ کے بقول، “میں امریکی تاریخ کا پہلا صدر ہوں جس نے تجارت کے معاملے پر چین کو چیلنج کیا ہے اور ہم اس معاملے میں جیت رہے ہیں، ہم ہر معاملے میں جیت رہے ہیں۔” خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس میں شریک اس کی رپورٹر کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے چین سے متعلق دعوے پر سلامتی کونسل کے اجلاس کے کئی شرکا حیرت زدہ نظر آئے جب کہ خود چینی وزیرِ خارجہ بھی شش و پنج کا شکارلگے۔’اے ایف پی’ کے مطابق اجلاس کا موضوع بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی روک تھام تھا اور صدر ٹرمپ کا چین سے متعلق اظہارِ خیال اجلاس کے شرکا کے لیے خاصا غیر متوقع اور موضوع سے ہٹ کر تھا۔ اجلاس سے اپنے 10 منٹ طویل خطاب میں صدر ٹرمپ نے امریکی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت سے متعلق کچھ نہیں کہا جس کے بارے میں امریکی انٹیلی جنس اداروں کا اتفاق ہے کہ اس نے 2016ء کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی تھی جس کا فائدہ صدر ٹرمپ کو پہنچا تھا۔روس امریکہ کے ان دعووں کی تردید کرچکا ہے اور خود صدر ٹرمپ بھی ایک موقع پر کہہ چکے ہیں کہ وہ نہیں سمجھتے کہ روس نے انتخابات میں کوئی مداخلت کی تھی۔ تاہم امریکی صدر نے بعد ازاں اپنا یہ بیان واپس لے لیا تھا۔

جواب چھوڑیں