انسانیت کی خدمت‘ عبادت سے زیادہ اہم۔ ہم ٹی وی کو پاکستانی خاتون اول بشریٰ عمران کا انٹرویو

پاکستان کی خاتون اول بشریٰ عمران نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان‘ محمد علی جناح کے بعد صدی کے سب سے بڑے قائد ہیں۔ ان کے بعد ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کا نام آتا ہے۔ انہوں نے اپنے شوہر کو قائد کہا‘ سیاستداں نہیں۔ فرسٹ لیڈی نے ہم ٹی وی کے ندیم ملک کو ان کے پروگرام ندیم ملک لائیو کے لئے تفصیلی انٹرویو دیا۔ اخبار ڈان نے اسی انٹرویو کے حوالہ سے یہ اطلاع دی۔ بشریٰ نے زور دے کر کہا کہ ملک کے عوام خوش قسمت ہیں کہ انہیں عمران خان جیسا قائد ملا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سیاستداں اور قائد میں فرق ہوتا ہے۔ عمران خان اور ترک صدر رجب طیب اردغان‘ محمد علی جناح کے بعد اس صدی کے صرف 2 قائدین ہیں جبکہ مابقی لوگ سیاستداں ہیں۔ خاتون اول نے اظہار حیرت کیا کہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کس طرح ردعمل ظاہر کررہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ تبدیلی کے وعدہ کا کیا ہوا حالانکہ پی ٹی آئی کی حکومت بنے ایک ماہ ہی ہوا ہے۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ ایک ماہ میں تبدیلی کیسے آسکتی ہے۔ عمران خان کے پاس کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہے۔ بشریٰ نے کہا کہ عبادت اور دعا اہم ہے لیکن زیادہ اہم انسانیت کی خدمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ چیز ہے جو انہوں نے خان صاحب سے سیکھی ہے۔ یہ پوچھنے پر کہ پیرانی ماں سے خاتون اول بن کر انہیں کیسا لگا ‘ بشریٰ بی بی نے جواب دیا کہ میری پچھلی زندگی میں لوگ میرے پاس اللہ اور اللہ کے رسولؐ کے قریب ہونے کے لئے آتے تھے‘ اب یہ لوگ عمران خان سے قریب ہونے کے لئے آتے ہیں۔ عبادت کرنا اور دعا مانگنا اہم ہے لیکن زیادہ اہم انسانیت کی خدمت ہے۔ یہی میں نے خان صاحب سے سیکھا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے عمران کو بدلا جبکہ سچ یہ ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کو بدلا ہے۔ میں نے انہیں سکھایا کہ عبادت‘ اللہ کے قریب لے جاتی ہے اور انہوں نے مجھے سکھایا کہ اللہ کے بندوں کی خدمت اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔ اپنے شوہر کے سادہ طرززندگی کے اولہ سے خاتون اول نے بتایا کہ وہ لباس یا غذا کے معاملہ میں مخصوص نہیں ہیں۔ وہ کچھ نہیں چاہتے۔ وہ اپنے لئے کپڑے نہیں سلواتے۔ شادی کے بعد میں نے بنگلہ کے نوکروں سے عمران کا گرمائی لباس نکالنے کو کہا تو مجھے جواب ملا کہ ایسا کوئی لباس ان کے پاس ہے ہی نہیں۔ بشریٰ بی بی کے بقول ہاؤز کیپرس نے انہیں بتایا کہ عمران خان صرف وہ کپڑے پہنتے ہیں جو انہیں کوئی اور لاکر دیتا ہے۔ وہ کبھی کپڑے نہیں سلواتے۔ کوئی آیا اور شلوار قمیص کے سِلے ہوئے جوڑے دیا گیا جو عمران نے سیزن بھر پہنے۔ میں نے ایسا سادہ آدمی کبھی نہیں دیکھا۔ وہ کوئی آرزو/ تمنا / خواہش نہیں رکھتے۔ الیکشن کے بعد وزیراعظم عمران خان کے رویہ میں تبدیلی کے تعلق سے بشریٰ عمران نے کہا کہ شعلہ بیاں قائد سے وہ گذشتہ چند ماہ میں حلیم الطبع (نرم مزاج) قائد بن گئے ہیں۔ وزیراعظم خان مصروفیت کے باوجود نماز نہیں چھوڑتے۔ ایک سوال کے جواب میں خاتون اول نے ان میڈیا اطلاعات کو خارج کردیا جن میں کہا گیا تھا کہ عمران خان سے شادی کے لئے انہیں غیبی اشارہ ملا تھا۔ عمران سے شادی پر ایک اور تنازعہ کو بھی انہوں نے خارج کیا۔ خاتون اول نے کہا کہ پہلے شوہر کا مکان چھوڑنے سے قبل وہ اپنی عدت مکمل کرچکی تھیں۔ پہلے شوہر کا مکان چھوڑنے کے فوری بعد میں شادی کرسکتی تھی لیکن میں نے عقد ثانی کے لئے 6یا 7ماہ انتظار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پہلے شوہر مذہبی معاملات میں بے حد محتاط رہا کرتے تھے۔ خاتون اول کی حیثیت سے وہ کونسے کاز کے لئے کام کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں‘ اس پر بشریٰ عمران نے کہا کہ لاہور میں جب وہ ایک بیت المعمرین گئیں تو انہیں بڑا دکھ ہوا۔ وہ چند دن تک نہ کچھ کھا سکیں اور نہ عبادت کرسکیں۔ میری جن سے ملاقات ہوئی ان میں کچھ کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ بعض نے چھوٹی رقم مانگی تاکہ وہ خود پر 10 روپے خرچ کرسکیں۔ اس سے میری روح ہل کر رہ گئی ۔ میں ان کے لئے کچھ کرنا چاہوں گی۔ انہوں نے یتیموں اور معذوروں کی مدد کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا۔

جواب چھوڑیں