سبری مالا پر سپریم کورٹ کا فیصلہ ، خاتون جہد کاروں کا اظہارِ ستائش

خاتون جہد کاروں نے آج سپریم کورٹ کے اُس فیصلہ کی ستائش کی جس میں خواتین کو کیرالا کے سبری مالا میں واقع ایپا مندر میں داخلہ کی اجازت دی گئی ہے ، لیکن عوام کی جانب سے بنیادی سطح پر اس کو قبول کیے جانے کے تعلق سے تشویش بھی ظاہر کی ۔ پانچ رکنی دستوری بنچ نے چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں 4:1 فیصلہ میں کہا کہ مندر میں خواتین کے داخلہ پر امتناع صنفی امتیاز پر مبنی ہے اور اس عمل سے ہندو خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ کویتا کرشنن خواتین کے حقوق کی کارکن و سکریٹری آل انڈیا پروگریسیو ویمنس اسوسی ایشن (اے آئی ٹی ڈبلیو اے) نے کہا کہ اس تعلق سے فیصلہ عرصۂ دراز سے التوا میں تھا۔ بیک وقت طلاقِ ثلاثہ ، حاجی علی اور سبری مالا کیسس کو درست انداز سے نمٹا گیا ، کیوںکہ خواتین کے مساوات کو مذہبی عمل میں یرغمال بنایا نہیں جاسکتا ، جب کہ یہ غیردستوری اور امتیازی نوعیت کا ہے کہ ذات پات کی بنیاد پر مندروں میں داخلہ سے روکا جائے۔ یہ اسی طرح ہے جو صنفی بنیاد پر داخلہ سے محروم رکھا جاتا ہے اور ہم اپنے اقدار کو بھی اپنے بھگوانوں کے لیے پیش کرتے ہیں اور عملی اقدار جن سے مردوں کی جانب سے بوجھ ڈالا گیا ہے یا جنسی انتخاب خواتین کے تعلق سے جو کیا جاتا ہے اس سے خاتون کی حقیقی زندگی کو گہرائی سے نقصان کا اندیشہ ہے ۔ کرشنن نے یہ بات کہی ۔ مرد یا بھگوان اپنی ذمہ داری کے لیے خواتین کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے ان کو پابند نہیں کرسکتے ۔ میں یہ امید کرتی ہوں کہ سبری مالا ٹمپل اتھاریٹیز اور کیرالا دیوس وم بورڈ اور کیرالا حکومت سپریم کورٹ کے احکام کو برخواست نہیں کریںگے ، بلکہ اس کا احترام کیا جائے گا۔ مریم دھوالے جنرل سکریٹری آل انڈیا ڈیمو کریٹک ویمنس اسوسی ایشن نے مساوات کے لیے مدد کرنے میں ایک اور قدم قرار دیا ۔ ہم فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہیں ۔ خواتین کو دستوری حق حاصل ہے کہ وہ مندر میں جائے اور جو کوئی یہ خواہش رکھتا ہے اسے دورہ کی اجازت رہے ، چاہے وہ مندر ہو یا درگاہ ۔ چھاوی میتھی خواتین کے حقوق کی کارکن نے بھی فیصلہ کا خیرمقدم کیا ، لیکن یہ کہا کہ اس کے تعلق سے قبولیت کے بارے میں دیکھنا ہوگا۔ مجھے شبہ ہے کہ ٹیمپل کے حکام صحیح جذبہ سے قدم اٹھائیںگے ۔ خواتین کے تعلق سے اس معاملہ پر عمل آوری تاہم ایک مسئلہ رہے گا۔ یو این آئی کے بموجب دہلی کمشنر برائے خواتین سواتی مالیوال نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا ، جو سبری مالا مندر کے تعلق سے دیا گیا ہے۔ اپنے میکرو بلاگنگ سائٹر پر ٹوئٹر کے ذریعہ مالیوال نے کہا کہ سبری مالا پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ بی سی ڈبلیو چیف نے کہا کہ خواتین بھی ہر اعتبار سے مرد کے برابر ہے۔ انہیں بھی مذہبی مقامات پر چاہے وہ مندر ، مسجد ، گردوارہ چرچ جانے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نے یہ اچھا فیصلہ سنایا ہے۔ آئی اے این ایس کے بموجب کانگریس نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کو کیرالا کے سبری مالا ٹمپل میں خواتین کے لیے داخلہ کی اجات دینا ترقی پسند فیصلہ ہے۔ عبادت کے مقام پر صنف کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں برتا جاسکتا ۔ اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا جاتا ہے ، جو کہ ترقی پر مبنی ہے ۔ کانگریس کے قائد رندیپ سنگھ سرجے والا نے یہ بات ٹوئٹ کی ۔

جواب چھوڑیں