سعودی عرب کی پاکستان میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع: عمران خان

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورے کے بعد سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں مختلف منصوبوں میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا امکان ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا دورہ سعودی عرب بہت کامیاب رہا ہے اور سعودی حکومت نے پاکستان ، چین اقتصادی راہ داری (سی پیک) کے مختلف منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کرنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے میں دورے کے موقع پر پاکستانی اور سعودی قیادت کے درمیان تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی سی پیک میں شمولیت کے لیے پاکستان نے چین کو بھی اعتماد میں لے لیا ہے۔وزیر اعظم کے دورے کے موقع پر پاکستان نے سعودی عرب سے 15 ارب ڈالر کے پیکج کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔اس کے جواب میں سعودی حکومت نے 10 ارب ڈالر دینے کی ہامی بھری ہے۔ یہ رقم سی پیک کے تحت منصوبوں میں سرمایہ کاری کی صورت میں لگائی جائے گی۔ سعودی عرب گوادر میں ایک آئل سٹی بھی تعمیر کرے گا۔یہ آئل سٹی سی پیک منصوبے کا حصہ ہوگا۔ اس سے قبل یہ ’تیل شہر‘‘ چین نے تعمیر کرنا تھا۔ وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے ساتھ سعودی عرب بھی سی پیک کا تیسرا اہم شراکت دار ہو گا اور اس منصوبے میں بھاری سرمایہ کاری کرے گا۔ انھوں نے بتایا کہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں سعودی عرب کا اعلی ٰسطح کا ایک وفد پاکستان آئے گا جس میں سعودی وزیرتوانائی خالد الفالح اور دوسرے اعلیٰ عہدیدار ہوں گے۔ سعودی عرب کے علاوہ متحدہ عرب امارات(یو اے ای)نے بھی پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت چین کی خلیجی عرب ممالک سے تیل کی درآمدات کو گوادر سے سنکیانگ تک پہنچانے کا ایک منصوبہ بھی زیر غور ہے اور گوادر سے سنکیانگ تک تیل کی ایک نئی پائپ لائن بچھانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جس کی یومیہ صلاحیت دس لاکھ بیرل ہوگی۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ انسداد بدعنوانی کے لیے ان کے سامنے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان رول ماڈل ہیں، جس طرح شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جْرات مندانہ مہم چلائی، میں اسی طرح پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنا چاہتا ہوں۔ جنرل منیجر ترکی الدخیل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شہزادہ عمران خان نے کہا کرپشن میں ملوث تمام عناصر کے خلاف پوری قوت کے ساتھ کارروائی کرنا ہوگی اور اس کے لیے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان رول ماڈل ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ملک کی دولت لوٹ کر بیرون ملک بنکوں میں رکھی گئی ہے۔ ہم اس رقم کو واپس قومی خزانے میں جمع کرائیں گے۔ تاہم انہوں اعتراف کیا کہ بیرون ملک رکھی گئی رقوم کی واپسی اتنا آسان کام نہیں۔ چوروں نے ملک لوٹ کر دوسرے ممالک میں اپنے خفیہ اثاثے بنا رکھے ہیں۔ ان کی نشاندہی بھی ایک مشکل امر ہے۔ خیال رہے کہ عمران خان کا تفصیلی انٹرویو پرسوں اتوار کی رات کو نشر کیا جائے گا۔ تحریک انصاف کے سربراہ اور پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم عمران خان نے چند روز قبل سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ سعودی عرب میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ اپنے پہلے بیرون ملک دورے کے دوران انہوں نے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت کئی دوسری اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں۔

جواب چھوڑیں