سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر متوقع‘ ورا ورا راؤ کی اہلیہ اور بھانجہ کا ردعمل

انقلابی مصنف پی ورا ورا راؤ خاندان کے ایک رکن نے آج سپریم کورٹ کے فیصلہ کو بدبختانہ اور غیر متوقع قرار د یا ۔ عدالت عظمیٰ نے آج پانچ جہد کاروں کی گرفتاری کے معاملہ میں مداخلت کرنے سے انکار کردیا ۔ ان جہد کاروں پر ماوسٹوں سے روابط کا الزام ہے ۔ ورا ورا راؤ‘ بائیں بازو نظریات کے حامل انقلابی مصنف ہیں۔ انہیں ‘ گذشتہ ماہ شہر سے گرفتار کیا گیا تھا ۔ راؤ‘ دیگر چار جہد کاروں میں شامل ہیں جنہیں ملک کے مختلف مقامات سے گرفتار کیا گیا تھا ۔ سپریم کورٹ نے جمعہ کو انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے جہدوجہد کرنے والے 5کارکنوں کی گرفتاری کے معاملہ میں مداخلت کرنے سے انکار کردیا ۔ ان پانچوں کو کورے گاؤں۔ بھیما تشدد کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس کیس کی تحقیقات کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست قبول کرنے سے بھی انکار کردیا۔ عدالت نے ان سماجی جہد کاروں کو فوری رہا کرنے سے متعلق درخواست کو بھی خارج کردیا ۔ ورا ورا راؤ کے بھانجے این وینو گوپال راؤ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو بدبختانہ اور غیر متوقع قرار دیا اور کہا کہ ہمیں امید تھی کہ سپریم کورٹ ‘ اس کیس کو ختم کردے گی مگر عدالت نے اس کے برعکس فیصلہ سنایا جو ہماری توقعات کے برخلاف رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ سپریم کورٹ نے مداخلت کرنے سے انکار کردیا مگر راحت کی بات یہ ہے کہ عدالت نے گھر پر نظر بندی کی مدت کو چار ہفتوں تک توسیع کردی ہے ۔ یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ورا ورا راؤ کی اہلیہ ہیما لتا نے کہا کہ ہمیں اس طرح کے فیصلہ کی امید نہیں تھی ۔ ہم ‘ میں اور راؤ‘ وکلا کاتہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ وہ (وکلا) اس کیس کو اعلیٰ عدالت تک لے گئے اور عدالت عظمی میں دلائل کے ساتھ بحث کی ہمیں یقین ہے کہ یہ کیس کالعدم ہوجائے گا ۔ پونے پولیس نے 28 ؍اگست کو ورا ورا راؤ کو گرفتار کیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ کے حکم پر راؤ کو30؍ اگست سے گھر پر نظر بند رکھا جارہا ہے۔ وینو گوپال راؤ نے کہا کہ ورا ورا راؤ کے خلاف کیس کو خارج کرنے کیلئے وہ ممبئی ہائی کورٹ یا حیدرآباد ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے ۔

جواب چھوڑیں