طارق انور‘ این سی پی اور لوک سبھا سے مستعفی

جنرل سکریٹری نیشنلسٹ کانگریس پارٹی(این سی پی) طارق انور نے جمعہ کے دن پارٹی چھوڑی۔ وہ لوک سبھا کی رکنیت سے بھی مستعفی ہوگئے۔ پارٹی صدر شرد پوار کا رافیل معاملت میں وزیراعظم کو کلین چٹ دینا طارق انور کی ناراضگی کی وجہ بنا ہے۔ انہوں نے یہاں میڈیا سے کہا کہ میں این سی پی اور لوک سبھا کی رکنیت سے مستعفی ہوگیا ہوں کیونکہ میں رافیل معاملت میں وزیراعظم مودی کے حق میں شردپوار کے بیان سے بالکل اتفاق نہیں کرتا ۔ وزیراعظم‘ رافیل معاملت میں پوری طرح ملوث ہیں۔ پوار نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ عوام کو مودی کی نیت پر کوئی شبہ ہے۔ بی جے پی صدر امیت شاہ نے پوار کے بیان کا خیرمقدم کیا تھا اور شردپوار کی ستائش کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے قومی مفاد کو پارٹی سیاست سے بالاتر رکھا ہے۔ 67 سالہ طارق انور 1999میں شردپوار اور پی اے سنگما کے ساتھ کانگریس سے نکالے گئے تھے۔ ان تینوں نے اس وقت سونیا گاندھی سے بیرونی نژاد ہونے کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ طارق انور نے کہا کہ وہ نجی طورپر شردپوار کا احترام کرتے ہیں لیکن مودی کی تائید میں ان کا بیان بدبختانہ ہے۔ کٹیہار کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ میں پوار کے بیان سے اتفاق نہیں کرتا۔ پارٹی اور لوک سبھا کی رکنیت سے مستعفی ہوگیا ہوں۔ انہوں نے آئی اے این ایس سے کہا کہ سیاست میں اپنا اخلاقی موقف ثابت کرنے کے لئے وہ اس فیصلہ پر مجبور ہوئے ہیں۔ میرے قول اور فعل میں تضادنہیں ہوسکتا۔ کئی مرتبہ رکن لوک سبھا اور ایک مرتبہ رکن راجیہ سبھا رہ چکے طارق انور نے کہا کہ کسی اور جماعت میں شامل ہونے سے قبل وہ اپنے حامیوں سے بات کریںگے۔ پی ٹی آئی کے بموجب این سی پی کے قومی جنرل سکریٹری طارق انور نے جمعہ کے دن کہا کہ وہ پارٹی اور پارلیمنٹ کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے ہیں کیونکہ پارٹی سربراہ شردپوار نے رافیل معاملت میں نریندر مودی کا دفاع کیا ہے۔ اپنے حلقہ لوک سبھا کٹیہار میں یہ اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کے تمام عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ انہوں نے لوک سبھا کی رکنیت بھی چھوڑدی ہے۔ وہ این سی پی کے بانیوں میں ایک تھے۔ طارق انور نے اخباری نمائندوںسے کہا کہ مراٹھی نیوز چیانل کو جاریہ ہفتہ شردپوار کے انٹرویو سے انہیں ٹھیس پہنچی ہے۔ شردپوار نے بعدازاں وضاحت کی تھی کہ ان کی بات کا یہ مطلب نہیں کہ رافیل معاملت میں وزیراعظم کو کلین چٹ مل گئی ہے۔ سابق مرکزی وزیر طارق انور ‘ کانگریس کے اس مطالبہ کی تائید کررہے ہیں کہ رافیل معاملت کی جے پی سی تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے اس مسئلہ پر وائٹ پیپر کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے مستقبل کے سیاسی اقدام کے تعلق سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اپنے حامیوں سے مشورہ کے بعد طے کروں گا کہ کیا کیا جائے۔ کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل پریم چند مشرا نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے طارق انور کو بہترین قائد قراردیا اور کہا کہ ان کا اگلا سیاسی اقدام کیا ہوگا اس کا ہمیں بے قراری سے انتظار ہے۔ نئی دہلی میں سینئر پارٹی قائد اور رکن راجیہ سبھا ڈی پی ترپاٹھی نے طارق انور کے استعفیٰ کی توثیق کی۔ بہار پردیش کانگریس کے سابق صدر طارق انور نے 1990 کے دہے میں شردپوار اور پی اے سنگما کے ساتھ مل کر این سی پی قائم کی تھی۔ اس وقت ان تینوں نے اطالوی نژاد ہونے کی بنیاد پر سونیا گاندھی کے صدر کانگریس بننے کی مخالفت کی تھی۔ این سی پی نے بعد میں قومی سطح پر اور مہاراشٹرا میں کانگریس کا ساتھ دیا تھا۔

جواب چھوڑیں