طلاق ثلاثہ ‘آرڈیننس کیخلاف کامیاب جدوجہد کیلئے مسلمانوں میں اتحاد ناگزیر

سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مسلمانوں پر زوردیاکہ وہ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پرجاری کردہ آرڈیننس کے خلاف متحدہوجائیں ۔ انہوںنے کہاکہ تمام مسلمانوں کو طلاق کے بیجا رواج کوختم کرنے کا مصمم ارادہ کرناچاہئے ۔دارالسلام میں آج طلاق ثلاثہ آرڈنینس کے خلاف کل جماعتی احتجاجی جلسہ عام منعقد کیاگیا ۔ مولانا قبول پاشاہ قادری شطاری نے اس جلسہ کی صدارت کی ۔جلسہ کے دوران رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ وصدرنشین اردو اکیڈیمی محمدرحیم الدین انصاری نے قراردادکونعرہ تکبیر کی گونج میں پیش کیا جس کو منظورکرلیاگیا۔ مسلمانوں کایہ نمائندہ کل جماعتی اجلاس مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ حکومت نے طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر چوردروازے سے جوآرڈیننس جاری کیاہے وہ اس کو واپس لے لئے اور تمام طبقات کی مذہبی اور تہذیبی آزادی کوباقی رکھے یہ اجلاس حکومت کے اس اقدام کی سخت مذمت کرتاہے اور امیدرکھتا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گی۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہاکہ ہمارے بچوں اور آئندہ نسلوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانا چاہئے اور انہیں اسلامی نہج پر تربیت دینی چاہئے تاکہ وہ ایک نشست میں طلاق سے گریز کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کاآرڈیننس مسلمانوں کے لئے ناقابل قبول ہے ۔ یہ آرڈیننس شہریوں کے بنیادی حقوق کے مغائر ہے ۔ امیر جامعہ نظامیہ مفتی خلیل احمد نے کہاکہ ہندوستان کے علاوہ دیگر کئی ممالک میں مسلمان مقیم ہیں دیگر ممالک کی حکومتیں مسلمانوں پر ظلم کررہی ہیں وہاں کے مسلمان اپنے بل بوتے پرمذہب اسلام کی حفاظت کررہے ہیں ہندوستان کے مسلمانوں کو بھی متحدہوکر موجودہ حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے تاکہ مرکزی حکومت‘جاری کردہ آرڈیننس کوواپس لے سکے ۔ مولانا سید قبول پاشاہ قادری شطاری نے کہاکہ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پرآرڈیننس جاری کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے شریعت میں مداخلت کرنے کی کوشش کی ہے ۔انہوں نے مرکزی حکومت سے اس آرڈیننس سے دستبرداری اختیار کرنے کامطالبہ کیا۔ امیرحلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ حامدمحمد خان نے کہاکہ مرکزی حکومت نے طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پرجو آرڈیننس جاری کیاہے وہ ملک کے دستور کی دفعہ 141کے مغائر ہے ۔انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت راجستھان ‘مدھیہ پردیش ودیگر ریاستوں کے اسمبلی انتخابات سے قبل مہنگائی ‘فیول کی قیمتوں میں اضافہ ‘ نیرو مودی‘وجئے مالیا ودیگر اسکامس سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے طلاق ثلاثہ کے خلاف آرڈیننس جاری کیاہے تاکہ ملک کی ان چار ریاستوں میں بی جے پی مخالف لہر کوختم کیا جاسکے۔رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسدالدین اویسی نے کہاکہ بی جے پی نے سال 2014 کے انتخابات میں ملک میں اچھے دن لانے ‘ ملک کے ہرشہری کے بینک اکائونٹ میں فی کس 15 لاکھ روپے جمع کرنے کے علاوہ کئی وعدے کئے تھے ۔ مرکزکی بی جے پی حکومت گذشتہ ساڑھے چارسال کے دوران ہرمحاذ پر ناکام ہوگئی ہے ۔ اس نے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے طلاق ثلاثہ کے خلاف آرڈیننس جاری کیاہے ۔انہوں نے اس آرڈیننس کو شریعت میں مداخلت قراردیا ۔یہ آرڈنینس مسلم خواتین کے خلاف ہے ۔ شادی ایک سیول کنٹراکٹ ہے جبکہ مرکزی حکومت نے اس کنٹراکٹ کوکریمنل بنانے کی کوشش کی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ طلاق ثلاثہ کے خلاف جاری کردہ آرڈیننس ملک کے مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہیںہے ۔مرکزی حکومت کو اس آرڈیننس سے دستبردارہونا چاہئے ۔ اس جلسہ سے مفتی زبیر قاسمی ‘نائب صدر کل ہندمجلس تعمیرملت ضیاء الدین نیئر‘ مولانا صفی احمدمدنی ‘مولانا حسان فاروقی ‘مولانا معراج الدین ابرار‘ مولانا سید اولیاء حسینی مرتضیٰ پاشاہ ‘ مولانا حیدر آغا‘مولانا حسام الدین ثانی ‘مولانا سید مرتضیٰ پاشاہ المعروف خضرپاشاہ اوردیگر نے خطاب کیا۔ احتجاجی جلسہ کاآغاز حافظ وقاری محمدعبد العلی صدیقی کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ محمدشفیع قادری نے نعت سنائی ۔ احتجاجی جلسہ میں عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔

جواب چھوڑیں