ورلڈکپ دور نہیں‘کھلاڑیوں کو حوصلہ دینے کی ضرورت:سرفراز

ایشیاء کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم کی شرمناک کارکردگی نے کپتان سرفراز احمد کی نیندیں اڑادیں۔ بنگلہ دیش سے ہارنے کے بعد انہوں نے بحیثیت کپتان شکست تسلیم کرلی ہے اور اعتراف کیاکہ میری اپنی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ لیکن جب ان سے پوچھا گیاکہ کیا وہ تھوڑ آرام کرنے کیلئے کسی دوسرے وکٹ کیپر کو موقع دیں گے، تو ان کا جواب تھا یہ کام سلیکشن کمیٹی کاہے جبکہ کپتان کا تقرر اور سبکدوشی بورڈ کا کام ہے میں کرکٹ کھیلتا ہوں اور کھیلتا رہوںگا۔ انہوں نے سوال کرنے والے کو مشورہ دیاکہ مجھے باہر بٹھانے کے تعلق سے آپ سلیکشن کمیٹی کو اپنی رائے ضرور دیں۔ ورلڈکپ زیادہ دور نہیں، انہی کھلاڑیوں کو اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ کپتان کی حیثیت سے ہمیشہ دباو رہتاہے۔ غلط بیانی نہیں کروںگا، 6 راتوں سے سو نہیں سکا۔ جب ٹیم اچھا نہ کھیلے تو پھر یہ دباو یقیناً بڑھ جاتاہے۔ مجھے کارکردگی دکھانی چاہیے تھی، میری خراب کارکردگی بھی شکست کی ایک وجہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں غصہ میں نہیں ہوں۔ ایشیا کپ میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر افسوس ہے، لیکن گھبراہٹ میں فیصلے کرنے اور افراتفری کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔ درحقیقت ٹیم کسی بھی موقع پر اچھا کھیلتی نظر نہیں آئی، تینوں شعبوں میں کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ کوچ مکی آرتھر پر من مانی کرنے کا تاثر غلط ہے۔ حفیظ بھائی اور جنید خان ہمارے پلان کا حصہ ہیں۔ سرفراز نے مزید کہاکہ پاکستان کی خصوصیت اننگز کے درمیان میں وکٹیں لینا رہی ہے لیکن اس ٹورنامنٹ میں ایسا کرنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے فخرزمان کا نام لیکر کہاکہ ایک ٹورنامنٹ کی خراب کارکردگی کے سبب آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اچھے بیاٹسمین نہیں۔ انہوں نے جو غلطیاں کی ہیں انہیں اس کا خود بھی احساس ہے۔ ٹیم میں شعیب ملک اور ان کے علاوہ دیگر کھلاڑیوں نے بہت زیادہ انٹرنیشنل میاچس نہیں کھیلے ہیں لہذا ان کھلاڑیوں کو اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔ اکثر کھلاڑی نا تجربہ کار ہیں۔ ورلڈ کپ سے پہلے کئی بڑی ٹیموں کے خلاف اہم سیریز کھیلنا ہیں۔ مڈل آرڈر نئی گیند پر چلا جائے گا تو پھر بیٹنگ لائن کو کون سنبھالا دے گا۔ اس کارکردگی نے خطرہ کی گھنٹی بجا دی ہے۔ بیٹنگ بولنگ کے علاوہ فیلڈنگ میں بھی اہم ترین کیچ چھوڑے۔ اس ٹورنامنٹ میں اچھا نہ کھیلنے کے باوجود اس ٹیم میں باصلاحیت کھلاڑی ہیں ۔ ان کھلاڑیوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں