کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی ہڑتال سے عام زندگی مفلوج

شہر میں کل کارڈن اینڈ سرچ آپریشن کے دوران ایک شہری کی ہلاکت کے خلاف علیحدگی پسندوں کی جانب سے بطورِ احتجاج کی گئی اپیل پر ہڑتال کی گئی ، جس سے کشمیر میں عام زندگی پر اثر پڑا ۔ حکام نے سری نگر میں امن و ضبط کی برقراری کے لیے تحدیدات نافذ کردیے۔ تعلیمی ادارے ، دکانات ، خانگی دفاتر بند رہے ، کیوںکہ ہڑتال جوائنٹ ریسسٹنٹ لیڈر شپ کی جانب سے طلب کی گئی تھی ، جو کہ علیحدگی پسندوں کا ایک گروپ ہے۔ یہ لوگ 24 سالہ نوجوان کی شہر کے نور باغ علاقہ میں ہلاکت کے خلاف ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ واضح رہے کہ کل فوجی کارروائی کے دوران یہ ہلاکت واقع ہوئی ۔ عہدیدار نے یہ بات بتائی ۔ وادی کے بیشتر حصوں میں سرکاری ٹرانسپورٹ غائب رہے ، لیکن بعض خانگی گاڑیوں کو شہر کی سڑکوں پر دیکھا گیا۔ عہدیدار نے بتایا کہ پانچ پولیس اسٹیشنوں کے حدود میں عوام کی نقل و حرکت پر تحدیدات عائد کی گئی ہیں ، جو کہ ایک احتیاطی اقدام ہے ، تاہم کشمیر میں اب تک صورتِ حال پرامن ہے۔ سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں مسلسل دوسرے ہفتہ کے دوران بھی نماز ِ جمعہ کی اجازت نہیں دی گئی ، جہاں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ ہیں ، جو بطورِ احتیاطی اقدام ایک شہری کی موت کے خلاف ہونے والے احتجاج کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ یہ تحدیدات سی آر پی سی دفعہ 144 کے تحت نافذ رہیںگی ، جو خانیار ، رینواری ، نوہٹہ ، صفا کدل اور ایم آر گنج پولیس اسٹیشن کے حدود سری نگر ضلع میں نافذ رہیںگی اور جامع مسجد میں دوسرے جمعہ کو بھی نماز کی اجازت نہیں دی گئی ، کیوںکہ 24 سالہ محمد سلیم ملک کی سیکورٹی فورس کی فائرنگ میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن کے دوران نور باغ علاقہ میں ہلاکت کے بعد یہ اقدام کیا گیا ہے۔ جامع مسجد جانے والی تمام سڑکوں کو جو کہ اعتدال پسند حریت کانفرنس چیرمین میر واعظ مولوی عمر فاروق کا گڑھ ہے ، ہنوز بند ہے۔ تاریخی جامع مسجد کے دروازے بند کردیے گئے ہیں۔ میر واعظ جو جمعہ کے اجتماع کو جامع مسجد میں خطاب کرتے تھے ، آج بھی مکان پر نظر بند ہیں۔ انہیں نگین قیامگاہ میں زیرحراست رکھا گیا ہے ، تاکہ وہ احتجاجی مارچ کی قیادت نہ کرسکیں ، جو نوجوان کی موت کے خلاف کیا جانے والا تھا ۔ جامع مسجد کے باہر اطراف و اکناف کے علاقہ میں بھاری تعداد میں سیکورٹی افواج کو تعینات کردیا گیا ہے ، تاکہ سڑکوں پر حمل و نقل کو روکا جاسکے ۔ یہاں پر اذان بھی نہیں دی گئی۔ مقامی افراد نے بتایا کہ اس علاقہ میں کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے ، تاہم وادی میں نمازیں ادا کی گئیں، سوائے اہم سڑکوں کے ، مساجد کے تمام علاقوں میں نمازوں کی ادائیگی ہوئی ۔ اہم سڑکوں پر تحدیدات نافذ کی گئی ہیں ، جب کہ لوگوں نے داخلی علاقوں میں واقع مساجد میں نماز ِ جمعہ ادا کی ۔ حضرت بل درگاہ کے پاس نماز ِ جمعہ ادا کی گئی ، جو ڈل جھیل کے کنارے واقع ہے ۔ وادی کے مختلف مقامات پر بھی نمازوں کی ادائیگی کی اطلاعات ہیں۔

جواب چھوڑیں