اِدلب معاہدہ پر ترکی اور روس میں اختلافات

ماسکو اور انقرہ کے درمیان حال ہی میں طے پائے جانے والے ادلب معاہدے کے 4 نکات کی تشریح کے حوالے سے فریقین میں اختلاف پایا جا رہا ہے۔باخبر ذرائع نے ’’الشرق الاوسط‘‘ کو اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اِدلب کے حوالے سے سوچی معاہدے کی تشریح میں روسی صدر ولادی میر پوتین اور ان کے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن کے درمیان اختلاف رائے موجود ہے۔ذرائع کے مطابق پہلا اختلاف ’’غیر فوجی علاقے‘‘کی وسعت سے متعلق ہے جو 15 سے 20 کلو میٹر اندر تک ہے۔ ماسکو نے اِدلب اور دیگر مرکزی شہروں کو علاقے میں شامل کرنے کی کوشش کی جب کہ انقرہ اس کو مسترد کر چکا ہے۔دوسرا اختلاف یہ ہے کہ روس رواں سال کے اختتام سے قبل “حلب – لاذقیہ” اور “حلب – حماہ” کے دو راستوں کو دمشق حکومت کو واپس کرنا چاہتا ہے جب کہ ترکی ان دونوں راستوں کو انقرہ اور ماسکو کے زیر نگرانی رکھنے پر مْصر ہے۔تیسرا اختلاف شدت پسندوں کے انجام سے متعلق ہے۔ ترکی ان کو کردوں کے علاقوں میں منتقل کرنے کا خواہش مند ہے جب کہ روس “ان میں موجود غیر ملکیوں کے ساتھ لڑائی کے آپشن” پر ڈٹا ہوا ہے۔فریقین کے بیچ اختلاف کی چوتھی وجہ سوچی معاہدے کی مدت ہے۔ ماسکو اس معاہدے کو عارضی نوعیت کا رکھنا چاہتا ہے جب کہ انقرہ اسے مستقل صورت میں دیکھنے کا خواہا ہے۔انقرہ اور ماسکو کو امید ہے کہ آئندہ ماہ روس، ترکی، فرانس اور جرمنی کے درمیان ہونے والا سربراہ اجلاس اِدلب کے حوالے سے اختلافات حل کرنے میں کردار ادا کرے گا۔سوچی معاہدے کا متن شمالی شام میں اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقوں میں ایک غیر فوجی علاقہ قائم کرنے کا کہتا ہے۔ اس کے علاوہ معاہدے میں آئندہ ماہ کی 10 تاریخ سے علاقے سے بھاری ہتھیاروں کو ہٹا لینے اور 15 تاریخ سے شدت پسندوں سے خلاصی حاصل کرنے کے ٹائم ٹیبل بھی شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق ماسکو نے تہران، دمشق اور انقرہ کو آگاہ کر دیا ہے کہ “ان دونوں باتوں کو اپنے وقت پر پورا نہ کیا گیا تو فوری طور پر فوجی آپریشن اور فضائی بم باری شروع کر دی جائے گی۔

جواب چھوڑیں