آر کے اسٹوڈیوز کو خرید کرفلم اسکول میں تبدیل کیا جائے

 آر کے اسٹوڈیوز کا کیا ہوگا یہ کوئی نہیں جانتا جہاں ابھی ابھی گنیش تہوار کا اختتام عمل میں آیا جو اس کا آخری تہوار بھی ہوسکتا ہے۔مگر یہ بات لائق بحث ہے کہ آیا حکومت کو دی جانے والی تجاویز کہ اسے خرید کر فلم اسکول میں تبدیل کردینا چاہیے، قابل عمل ہیں ؟ اگست میں جب رشی کپور نے 70سالہ قدیم آر کے اسٹوڈیوز کو فروخت کرنے اپنے خاندان کے متفقہ فیصلے کا اعلان کیا تواس خبر نے کئی فلمی شائقین کو ماضی کی یادوں کی سیر کرادی۔ مگر پھر ایک اور سوال پیدا ہوا کہ کیا یہ ورثہ صرف ایک عمارت ہے؟فلم ہیری ٹیج فائونڈیشن کے ڈائرکٹر شیویندرسنگھ دنگارپور نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ ’’فلمی شائقین کے لیے آر کے اسٹوڈیوز سینما کا مندر ہے اور کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ یہ مندر نقشے سے غائب ہوجائے گا۔ یہ افسوسناک ہے۔ یہ وہ جگہ جہاں ہندوستانی سینما کے اہم دور کی فلمبندی ہوئی۔جہاں پردہ سمیں پرداستان گوئی کے ذریعہ بدلتے ادوار کی دستاویز رقم کی گئی۔ یہ وہ جگہ ہے جو راج کپور جیسے شخص کے ویژن کی تخلیق ہے اور اب یہ مستقبل کے سینما شائقین کے لیے نہیں رہے گی۔ یہ ورثہ کا عظیم نقصان ہے۔‘‘کئی لوگوں کا خیال ہے کہ سینما کے ورثہ کی برقراری حکومت ہند او رکارپوریٹس کی ذمہ داری ہے فلمساز راہول دھولکیا نے کہا کہ کیا یہ شاندار خیال نہیں ہوگا کہ حکومت آر کے اسٹوڈیو خرید لے اور اسے فلم اسکول میں تبدیل کردے؟ کیوں کہ یہ ہندوستان کے ایک بہترین داستان گو کا گھر تھا۔مہاراشٹرا کے چیف منسٹر دیویندر پھڈنویس کو اپنے مکتوب میں ممبئی کانگریس کے صدر سنجے نروپم نے بھی حکومت سے اس اسٹوڈیو کو حاصل کرکے اسے مکمل میوزیم میں تبدیل کرنے کی اپیل کی۔

جواب چھوڑیں