ایپل کے اکزیکٹیو کو گولی مارنے پر کانسٹیبل گرفتار

ایپل کمپنی کے ایک نوجوان اکزیکٹیو کو قریب سے گولی مارنے پر اترپردیش پولیس کے ایک کانسٹیبل کو ہفتہ کے دن گرفتار کرلیا گیا اور اس کے خلاف قتل کا کیس درج ہوا۔ ایک عہدیدار نے یہ بات بتائی۔ ریاستی حکومت نے واقعہ کی تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے۔ کانسٹیبل اور اس کے ساتھی کو نوکری سے برخواست کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ضروری ہو تو وہ سی بی آئی تحقیقات کا حکم دیں گے۔ ایپل کے سیلس منیجر کی ساتھی کے بموجب کانسٹیبل پرشانت چودھری نے ویویک تیواری کو اس کی ایس یو وی (اسپورٹس یوٹیلٹی وہیکل) کا پیچھا کرنے کے بعد گولی ماردی۔ شاید وہ رات دیر گئے چیکنگ کے دوران تیواری کی گاڑی روک نہیں پایا تھا۔ یہ واقعہ کل رات لگ بھگ 1:30 بجے پیش آیا۔ ویویک تیواری آئی فون ایکس ایس اور آئی فون ایس ایس میاکس لانچ کرنے کے بعد اپنی ساتھی ثنا خان کے ساتھ اپنے مکان لوٹ رہا تھا۔ ثنا خان نے بتایا کہ گاڑی پر گولی چلتے ہی ویویک تیواری گھبراگیا اور ایس یو وی ایک انڈر پاس پلر کی طرف چلی گئی جس سے تیواری کو مزید زخم آئے۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس او پی سنگھ نے انسپکٹر جنرل (لکھنو )کی قیادت میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس کرائم اور سپرنٹنڈنٹ پولیس رورول اس ٹیم کا حصہ ہوں گے جسے جلد سے جلد رپورٹ دینے کو کہا گیا ہے۔ ایس ایس پی لکھنو نے ضلع مجسٹریٹ کوشل راج شرما سے ملاقات کی اور ان سے مجسٹرئیل انکوائری کی خواہش کی۔ ہفتہ کے دن پوسٹ مارٹم سے پتہ چلا کہ گولی ویویک تیواری کی ٹھوڈی میں لگی اور گردن اور سر کے درمیان پھنس گئی۔ خون زیادہ بہنے سے ویویک تیواری کی موت واقع ہوئی۔ ایس ایس پی لکھنو کلاندھی نیتھانی نے بتایا کہ ثنا خان کے ایف آئی آر درج کرانے کے بعد کانسٹیبل کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہوا۔ پولیس کے بموجب گومتی نگر ایکسٹینشن میں کانسٹیبل نے تیواری کو چیکنگ کے لئے گاڑی روکنے کا اشارہ دیا تھا۔ تیواری نے بچنے نکلنے کی کوشش کی اور اس کی کار ایک موٹرسیکل سے ٹکراگئی جس پر 2کانسٹیبل جارہے تھے۔ کانسٹیبلوں نے گاڑی کا پیچھا کیا اور گولی چلائی۔ ایک پولیس عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش کے ساتھ کہا کہ کانسٹیبل نے اپنے دفاع میں گولی چلائی تاہم ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس (لا اینڈ آرڈر) آنند کمار نے مانا کہ اس واقعہ میں قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ انہوں نے خود اپنے محکمہ کے لوگوں کی سیلف ڈیفنس تھیوری کو خارج کیا اور کہا کہ اگر ایسا تھا تو پھر ہمارے بندے ایس یو وی کے ٹائر پر فائر کرسکتے تھے نہ کہ راست گولی چلاتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پولیس فورس کے لئے شرمناک واقعہ ہے۔ پولیس نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ مہلوک نے موٹرسیکل کو ٹکر دی تھی جس سے کانسٹیبل زخمی ہوئے تھے تاہم کانسٹیبلوں کے جسم پر کوئی زخم نہیں پائے گئے اور نہ ان کی سرکاری گاڑی کو کوئی نقصان پہنچا۔ دوسرے کانسٹیبل کو بھی گرفتار کرلیا گیا اور انہیں طبی جانچ کے لئے بھیجا گیا تاکہ یہ پتہ چلے کہ آیا اس وقت انہوں نے شراب تو نہیں پی رکھی تھی۔ ویویک تیواری کی بیوہ کلپنا نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ وہ لبلبی دباکر خوش ہوتی ہے یعنی اسے گولیاں چلانے میں مزہ آتا ہے۔ انہوں نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ پولیس نے ابتدا میں انہیں صرف یہ بتایا کہ حادثہ ہوا ہے اور ان کے شوہر کو لوہیا ہسپتال لے جایا گیا۔ وہ اپنی 2 لڑکیوں کے ساتھ جب وہاں پہنچیں تو انہیں بتایا گیا کہ زیادہ خون بہہ جانے سے ویویک تیواری کی موت ہوچکی ہے۔ گولی والی بات انہیں بتائی گئی۔ کلپنا اور ویویک کی اس واقعہ سے چند منٹ پہلے فون پر بات ہوئی تھی۔ بیوہ نے مطالبہ کیا کہ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ انہیں اور ان کی بیٹیوں کو بتائیں کہ ایپل کے 38 سالہ سیلس اکزیکٹیو کو کیوں مارا گیا۔ کلپنا نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت بننے پر ‘ یوگی جی کے چیف منسٹر بننے پر ہم بہت خوش ہوئے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہماری خوشی یہی دن دیکھنے کے لئے تھی؟ ۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے میڈیا سے کہا کہ تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور یہ یقینا انکاؤنٹر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑے تو وہ سی بی آئی انکوائری کرانے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ یو این آئی کے بموجب چیف منسٹر یوپی نے ایک خانگی کمپنی کے اکزیکٹیو کی 2 کانسٹیبلوں کے ہاتھوں ہلاکت کی سی بی آئی تحقیقات کا اشارہ دیا۔ چیف منسٹر نے جو گورکھپور میں ہیں‘ فرضی مڈبھیڑ کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ متاثرہ خاندان اگر مطالبہ کرے تو حکومت سی بی آئی تحقیقات کی سفارش کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ویویک تیواری کی بیوہ کلپنا تیواری نے کہا کہ انہیں یوپی پولیس پر کوئی بھروسہ نہیں جس نے ان کے شوہر کا سفاکانہ قتل کیا۔ کلپنا نے چیف منسٹر کے نام مکتوب میں سی بی آئی تحقیقات اور ایک کروڑ روپے معاوضہ کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران لکھنو پولیس نے تحقیقات ایس آئی ٹی کو سونپ دیں۔ ویویک تیواری کی ساتھی ثنا خان نے جو کیس کی عینی شاہد ہے‘ کہا کہ ملزم پولیس والوں کے حق میں بیان دینے کے لئے اسے مجبور کیا جارہا ہے تاہم ایس ایس پی نے اس کی تردید کی۔ یوپی کے کئی وزرا اور اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے ویویک تیواری کے خاندان سے اظہار تعزیت کیا۔

جواب چھوڑیں