بنی نوع انسان کیلئے عصر حاضر غیر معمولی نوعیت کا حامل۔مفخم جاہ انجینئرنگ کالج میں سمینار

ڈپٹی ہائی کمشنر برطانیہ متعینہ حیدرآباد انڈر یوفیلمنگ نے کہا کہ بنی نوع انسان کے لئے موجودہ دور غیر معمولی نوعیت کا حامل ہے ۔ آج مفخم جاہ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی میں برٹش کے ڈپٹی ہائی کمیشن برطانیہ اور سماجی تنظیم ’’ روبرو‘‘ کے تعاون و اشتراک سے منعقدہ پروگرام بعنوان Empowering young global Citizens Navigating Through Initiatives Positively The role of Muslim youth as Global Citizen سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کلیدی خطبہ میں کہا کہ تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ عصری سماجی ترقی کے ذرائع ہمیں دستیاب ہیں۔ موجودہ دور کی عصری کمیونیکشنس ٹکنالوجی ہم کو منظم رکھنے اور تعاون و اشتراک کے غیر معمولی مواقع دستیاب کراتی ہے ۔ ان کو صحت عامہ کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے اور غربت کے خاتمہ کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے مختلف ممالک ، مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان آپسی تعاون واشتراک ضروری ہے ۔ ہم کو عالمی شہری کے طور پر کام کرنا ہوگا ۔ اس کیلئے تعلیم موثر ہتھیار ثابت ہوسکتا ہے ۔ یہ تشدد کے سدباب میں کارگر ثابت ہوسکتا ہے ۔ ہمارا احساس ہے کہ موجودہ وقت نئی قیادت دریافت کرنے کیلئے موزوں ہے تاکہ ہم آہنگی کو فروغ دیا جاسکے ۔ اس کام کی انجام دہی کیلئے تعلیم اور زندگی کے تجربہ نہایت ضروری ہیں۔ اسی سلسلہ کے تحت سماج میں ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے اس پروگرام کو شروع کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت طلبا کو مشغول رکھا جائے گا ۔ پہلے مرحلہ میں57 طلبا کو ورکشاپس میں تربیت فراہم کی گئی یہ طلبا اب سماج میں ہم آہنگی کی اہمیت کو فروغ دینے کا کام کریں گے ۔ انڈریوفیملنگ نے مزید کہا کہ اس پروگرام کا ایک اہم پہلو بین مذہبی ہم آہنگی ہے اور تربیت یافتہ طلباء اس موضوع کو بہتر انداز میں عوام تک لئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ حیدرآباد چونکہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا عظیم گہوارہ ہے ،اس لئے یہ پروگرام ، حیدرآباد میں منعقد کیا گیا اور توقع ہے کہ اس پروگرام کو دوسرے شہروں تک وسعت دی جائے گی ۔ مشیر خاص برائے اقلیتی امور حکومت تلنگانہ اے کے خان (موظف آئی پی ایس ) نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کو سماج میں شعور بیدار کرنے کیلئے کام کرنا چاہئے ۔ ہماری ساری کوشش انسانیت کی فلاح وبہبود پر مرکوز ہونا چاہئے ۔ اے کے خان نے کہا کہ ہمارے سماج میں میڈیسن اور انجینئرنگ کورسس کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سماجیات ، قانون، اکاونٹس جیسے مضامین میں بھی تعلیم حاصل کی جانی چاہئے ۔ انہوںنے کہا کہ ہم پر سماج کو باشعور بنانے کی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ اور یہ کام اسکولی سطح سے شروع کیا جانا چاہئے ۔ انہوںنے کہا کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے اقلیتی طلبا وطالبات کیلئے 212 اقامتی اسکولس قائم کئے گئے جہاں ان طلباء وطالبات کو ابتدائی طور سے ہی انسانیت اور سماج کے متعلق اپنی ذمہ داریوں کے احساس کا درس دیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ ایک باشعور اور با اختیار سماج کی تشکیل کیلئے لڑکیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ضروری ہے اس کام کے ذریعہ مطلوبہ مقاصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔اعزازی سکریٹری سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی ظفر جاوید نے کہا کہ ملک ، تبدیلی کے دور سے گذر رہا ہے ۔ ملک میں عصمت ریزی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ ایک باشعور سماج ہونے کے باوجود ان واقعات کے 20 تا 25 فیصد کیس ہی سامنے آتے ہیں ماباقی واقعات کو دبا دیا جاتا ہے ، متاثرہ خاتون کو ساری زندگی اس بدنما داغ کے ساتھ گذارنا پڑتا ہے ۔ دوسری طرف ملک میں جاری گفتگو کا موضوع گھر واپسی ، لوجہاد، جہاد، گاورکھشک تک محدود ہو کر رہ گیا۔ اس طرح کے موضوع گفتگو اگرچہ کہ ملک کے وقار کے لئے ٹھیک نہیں ہے مگر ان ہی موضوعات کو اہمیت دی جارہی ہے ۔ ایسے میں ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان موضوعات کو اختیار کرتے ہوئے سنسنی پھیلانے کے بجائے خود کو ان موضوعات میں الجھنے سے روکے رکھیں۔ ظفر جاوید نے کہا کہ ملک کا ایک اور المیہ یہ ہے کہ یہاں عدالتوں کی جانب سے صادر کئے جانے والے فیصلوں کو مختلف ٹی وی چیانلوں کی جانب سے اپنے اپنے انداز میں سمجھا جاتا ہے اور پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے واقعات کے خلاف مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔ اور یہ کام ایک فرد، ایک پارٹی یا ایک طبقہ کے ذریعہ ممکن نہیں ہے سارے سماج کو ان حالات کے خلاف متحدہ کوشش کرنی چاہئے ۔ انہوںنے مزید کہا کہ موجودہ طور پر ملک میں مسلمان خوف کے ماحول میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی جانب سے مسلمان کو دہشت گرد اور بنیاد پرست ثابت کرنے کی کوشش جاری ہے ۔ مسلمان اپنے ساتھ جاری اس امتیازی رویہ کے خلاف جدوجہد کرنے پر مجبور ہیں۔ دوسری طرف حکومت کا عدم تعاون پر مبنی رویہ ، تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوئے ماحول کو زہر آلود کیا جارہا ہے ۔ انہوںنے نوجوانوں کو ان نظریات سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو اس طرح کی بنیاد پر ستی کے نظریات کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے ۔ عوام کو بتانے کی ضرورت ہے کہ نفرت اور جنگوں سے کسی بھی ملک و قوم کا کبھی بھلا نہیں ہوا اور یہ راستہ امن وخوشحالی کا نہیں ہے ۔ انہوںنے حکومت سے خواہش کی کہ وہ عوام کو گمراہ کرنا چھوڑدے ورنہ تاریخ ان منفی باتوں کو کبھی بھلا نہیں سکے گی۔قبل ازیں مولانا عمر عابدین نے افتتاحی کلمات پیش کئے، جبکہ بی رشمی اور سوبھی دیویدی نے روبرو پروگرام کا تعارف پیش کیا ۔ اس موقع پر اسد مرزا، ڈاکٹر انوپماں کونیرو، شہباز احمد ، پروفیسر وی آستھانہ ، و دیگر موجود تھے ۔

جواب چھوڑیں