حرام کاری کو قانونی شکل دینے کی عدالتی کوشش: مسلم پرسنل لا بورڈ

 شادی شدہ عورت سے اس کی رضامندی کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کو سپریم کورٹ کی جانب سے درست قراردیا جانا اخلاقی قدروں اور مشرقی روایات کے خلاف ہے۔ ابھی چند دن پہلے ہی ہم جنسی کو جرم کے دائرہ سے باہر کردیا گیا اور اب یہ تازہ فیصلہ سامنے آیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کو مغربی تہذیب و ثقافت کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شادی شدہ عورت کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کی اجازت دراصل حرام کاری کو قانونی شکل دینے کی عدالتی کوشش ہے جو کسی بھی طرح پسندیدہ قرار نہیں دی جاسکتی۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے اپنے صحافتی بیان میں کیا۔

جواب چھوڑیں