دہشت گردی‘ پاکستان کی سرکاری پالیسی کا حصہ:سشما سوراج

ہندوستان نے آج جنرل اسمبلی اقوام متحدہ میں پاکستان کیخلاف زبردست تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُس کا پڑوسی ملک (پاکستان) اپنی سرکاری پالیسی کے حصہ کے طورپر دہشت گردی پر قائم ہے اور اِس( دہشت گردی) میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں ہوئی ہے۔ وزیر خارجہ ہند سشما سوراج نے جنرل اسمبلی اقوام متحدہ کے73ویں اجلاس میں عام بحث( جنرل ڈیبٹ) کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی‘ انسانیت کیلئے ’’موجودہ خطرہ ہے‘‘۔ اُنہوںنے کہاکہ ایسے میں جبکہ نیویارک میں ہوئے 9/11دہشت پسندانہ حملوں کے مرتکبین‘ کیفرکردار تک پہنچ چکے ہیں‘2008 میں ممبئی میں ہوئے دہشت پسندانہ حملہ کا سازشی ‘ حافظ سعید‘ پاکستان کے راستوں پر ہنوز آزادانہ گھوم رہا ہے۔ ’’ دہشت گردی پر کاربند رہنا پاکستان کی سرکاری پالیسی کا حصہ ہے جس میں ذرہ برابر کمی نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی فریب کاری پر اُس کے یقین میں کوئی کمی ہوئی ہے‘‘۔’’ ہمارے زمانہ کیلئے سب سے بڑا چیلنج آب وہوا کی تبدیلی اور دہشت گردی کے موجودہ خطرات سے اُٹھتاہے۔ہم نے خیال کیا تھا کہ 21ویں صدی کی آمد‘ اپنے ساتھ عام بھلائی کا ایک دورلائے گی۔ امن وخوشحالی کی تلاش میں اُس کی شرح ‘ تعاون سے کی جائے گی لیکن یہاں نیویارک میں 9/11 کا ہولناک المیہ ہوا اور ممبئی میں 26/11کی تباہی آئی۔ اِن خوفناک خوابوں نے ہماری امیدوں کو تار تار کردیا‘‘۔سشما سوراج نے کہاکہ دہشت گردی کا بھوت اب ساری دنیا میں پھررہا ہے۔ کہیں تیز رفتار سے اور کہیں سست رفتار سے لیکن زندگی کو ہرجگہ خطرہ ہے۔ ’’ جہاں تک ہمارا کیس ہے‘ دہشت گردی کسی دوردراز مقام پر نہیں پنپ رہی ہے بلکہ ہماری سرحد کے پار مغرب کی جانب( پنپ رہی ہے ) ۔ ہمارے پڑوسی کی مہارت‘ دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے میدانوں تک محدود نہیں ہے ۔ یہ پڑوسی ملک اپنی زبانی جمع خرچ کے ذریعہ اپنی بدخواہی کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش میں بھی ماہر ہے‘‘۔ جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران وزیر خارجہ ہند نے عالمی قائدین سے کہاکہ پاکستان کے دوغلے پن کا انتہائی حیرت انگیز ثبوت‘ یہ حقیقت ہے کہ 9/11 کے دہشت پسندانہ حملوں کے سازشی اُسامہ بن لادن کو اُس ملک( پاکستان) میں محفوظ پناہ گاہ دی گئی تھی۔ امریکی اسپیشل فورسس کی جانب سے دنیا کے انتہائی مطلوب دہشت گرد کی ہلاکت کے بعد بھی ’’ پاکستان نے ایسا طرز عمل جاری رکھا‘ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا‘‘۔سشما سوراج نے اپنے خطاب میں مزید کہاکہ ’’ امریکہ نے اُسامہ بن لادن کو اپنا انتہائی خطرناک دشمن قراردیا تھا اور اُس کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے عالمی سطح پر زبردست تلاش شروع کردی گئی تھی۔ شائد یہ امریکہ بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ ایک ایسے ملک‘ پاکستان میں پناہ ملے گی جو امریکہ کا دوست اور حلیف ہونے کا دعویٰ کرتا ہے‘‘۔ بالآخر امریکی انٹلیجنس سرویس نے اِس دوغلے پن کی حقیقت کو دریافت کرلیا اور امریکی اسپیشل فورسس نے انصاف کے تقاضہ کو پورا کیا۔ سشما سوراج نے کہاکہ ’’ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ دنیا اب‘ اسلام آباد پر بھروسہ کرنے تیار نہیں ہے‘‘۔ اُن کا اشارہ اِس جانب تھا کہ فینانشیل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) نے دہشت گردوں کو فنڈس کی فراہمی پر پاکستان کو نوٹس دی ہے ۔(مربوط خبریں صفحہ 3پر)

جواب چھوڑیں