صدر روس ولادیمیرپوٹین کا آئندہ ہفتہ ہندوستان کا دورہ

روس کے صدر ولادیمر پوٹین کے اگلے ہفتے ہونے والے ہندوستانی دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان میزائل شکن نظام ایس-400سمیت مختلف دفاعی سودوں پر حتمی مہر لگائے جانے کی امید ہے ۔ پوٹین چار اکتوبر کو ہندوستان -روس سالانہ دوطرفہ چوٹی کانفرنس میں حصہ لینے کے لئے دو روزہ دورے پر یہاں آرہے ہیں۔اس دوران وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کی ہونے والی میٹنگ میں ایس -400 ٹرائمپ ایئر ڈیفنس میزائل اور دیگراہم دفاعی سودوں پر بات آگے بڑھنے کا امکان ہے ۔ایس -400میزائل شکن نظام تقریباً 300اہداف پر ایک ساتھ نگاہ رکھ سکتا ہے اور تقریباً 36اہداف کو ایک ساتھ ناکارہ کرسکتاہے ۔یہ میزائل دشمن کے اسٹریٹجک بحری جہازوں،جاسوسی ہوائی جہازوں ،میزائلوں اور ڈرون کو 400کلومیٹر تک کی رینج اور ہوا میں 30کلو میٹر اوپر ہی ختم کرسکتا ہے ۔اس کے رڈار بے حد حساس ہیں جو بہت نیچی سطح پر اڑان بھرنے والے دشمن کے خفیہ طیاروں کو بھی آسانی سے پکڑ لیتے ہیں۔روس کے صدر ولادیمر پوٹین 2016میں ہندوستانی دورے پر گوا آئے تھے ۔تب مودی-پوٹین کے درمیان پانچ ایس -400 میزائل خریدنے پر اتفاق ہوا تھا۔لیکن امریکی قانون کاؤنٹرنگ ‘امریکہ کی ایڈورسریز تھرو سینکشنس ایکٹ(سی اے اے ٹی ایس اے )’کی مالیاتی پابندیوں کی وجہ سے اس میں رکاوٹ آگئی تھی۔اس قانون کے ذریعہ امریکہ دوسرے ملکوں کو روس سے ہتھیار خریدنے سے روکنے کی کوشش کررہا ہے ۔لیکن ایسا سمجھا جاتا ہے کہ ہندوستان اور روس نے امریکی پابندی سے بچنے کے لئے کوئی راستہ نکال لیا ہے ۔ذرائع کے مطابق امریکہ کی پابندیوں کے باوجود ہندوستان نے اس سمت میں قدم بڑھانے کا ارادہ کرلیا ہے اور حال ہی میں ختم ہوئی ہندوستان -امریکہ ٹوپلس ٹو میٹنگ میں ہندوستانی قیادت کو بھی اس بارے میں ملک کی دفاعی ضرورتوں اور اپنے رخ سے واقف کرادیا ہے ۔وزیردفاع نرملا سیتا رمن کی صدارت والی دفاعی خریداری کونسل (ڈی اے سی)نے جون کے آخر میں ہوئی ایک میٹنگ میں امریکی پابندیوں کے پیش نظر ایس -400 کے مجوزہ 39ہزار کروڑ روپے کے سود ے میں معمولی تبدیلیوں کو منظوری دے دی تھی۔اب یہ معاملہ وزیراعظم مسٹر مودی کے پاس ہے ۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے نیو یارک میں کل کہا کہ دفاعی امور میں ہندوستان کو ہی فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس طرح آگے بڑھنا چاہتا ہے اور کیا ہتھیار لینا چاہتا ہے ۔ پوٹین کی نئی دہلی میں صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند اور نائب صدر جمہوریہ وینکئیا نائیڈو سے بھی ملاقات کریں گے ۔

جواب چھوڑیں