مودی دور میں عہد وسطیٰ کی تاریخ ازسرنو لکھنے کی کوششیں۔ممتاز مورخین کو تشویش

پیشہ ور مورخین کے آئے دن ان الزامات کے درمیان یہاں کی نہرو میموریل میوزیم لائبریری(این ایم ایم ایل) میں 2 روزہ آل انڈیا ہسٹری سمٹ شروع ہوئی کہ وزیراعظم مودی کی این ڈی اے حکومت تاریخ کو ازسرنولکھ رہی ہے۔ ممتاز تاریخ دانوں نے زور دے کر کہا کہ ملک کے بڑے اداروں میں آر ایس ایس کی سرپرستی میں معمولی درجہ کے لوگ بھرے جارہے ہیں۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اس سے ملک کے اکیڈیمک ڈسکورس کو نقصان پہنچے گا۔ تاریخ کو دوبارہ لکھے جانے کی کوششوں کے الزامات کے بارے میں جو دانشوروں‘ جہدکاروں اور مورخین نے عائد کئے ہیں‘ پوچھنے پر ڈائرکٹر سنٹر فار ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (سی ای آر ٹی) توصیف مدیکیری نے مانا کہ بلاشبہ ایسا ہی ہے۔ سی ای آر ٹی نے ہی 2 روزہ چوٹی کانفرنس کا اہتمام کیا ہے۔ انہوں نے آئی اے این ایس سے کہا کہ ہندوتوا طاقتیں تاریخ کو ازسرنو لکھنے کی کوشش کررہی ہیں اور یہ حالیہ رجحان نہیں ہے۔ وہ 1970کے دہے سے اس کوشش میں ہیں۔ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ(آر ایس ایس) کی ذیلی تنظیم اکھل بھارتیہ اتہاس سنکلن یوجنا نے اس پر عرصہ دراز تک کام کیا ہے۔ تاریخ کی نصابی کتابوں میں ہم جو تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں وہ اسی کا نتیجہ ہیں۔ اب انہیں روبہ عمل لایا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب کوشش انڈین کونسل آف ہسٹاریکل ریسرچ (آئی سی ایچ آر) جیسے اداروں پر کنٹرول اور یونیورسٹیوں میں اپنے آدمی بھرنے کی ہورہی ہے۔ آر ایس ایس جو چاہتی تھی اسے گذشتہ 4 برس سے روبہ عمل لایا جارہا ہے۔ کوششیں اور ریسرچ ختم ہوچکی ہیں۔ اب ہمارے اعلیٰ اداروں کے اعلیٰ عہدوں پر کم درجہ کے مورخین کو لاکر تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مورخین کا ماننا ہے کہ ایسی باتیں ہمیشہ ہوتی ہیں لیکن بی جے پی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس اچھی ساکھ کے لوگ نہیں ہیں۔ اس کے پاس لائق مورخین نہیں ہیں۔ وہ اعلیٰ عہدوں پر گھٹیا درجہ کے لوگوں کو فائز کررہی ہے۔ ہمیں آئیڈیالوجی سے کوئی مسئلہ نہیں لیکن اعلیٰ عہدہ پر آنے والے شخص کی لیاقت مسلمہ ہونی چاہئے۔ یہاں یہ بات نہیں۔ یہی بڑا مسئلہ ہے کیونکہ اس سے اکیڈیمک ڈسکورس کو نقصان پہنچے گا۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی(جے این یو ) کے سنٹر فار ہسٹاریکل اسٹڈیز کے پروفیسر نجف حیدر نے نشاندہی کی کہ تاریخ دو طرح سے ازسرنو لکھی جارہی ہے۔ انہوں نے آئی اے این ایس سے کہا کہ ایک اس بہانہ سے کہ نصاب مختصر ہونا چاہئے ۔ اس کے لئے تاریخ کی درسی کتابوں میں تبدیلیاں لائی جارہی ہیں لیکن یہاں چنندہ معاملہ ہے۔ جو چیزیں ہٹائی جارہی ہیں وہ ایک خاص ایجنڈہ کے تحت حذف کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کو ازسرنو لکھنے کا دوسرا طریقہ تاریخ کے ثابت شدہ حقائق کو جھٹلانا ہے۔ کسی ثبوت اور بنیاد کے بغیر نئے حقائق دیئے جارہے ہیں۔ ثبوت نہایت اہم ہوتا ہے۔ ثبوت اور تاریخ کے بغیر بیانات دینے کا رجحان چل پڑا ہے۔ ثبوت کے بغیر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ تشریح بھی اہم ہے لیکن ثبوت کے بغیر اس کی کوئی اہمیت نہیں ۔ ہمیں بڑی فکر ہے کہ عہدوسطیٰ کے ہندوستان کی تاریخ خاص طورپر دوبارہ لکھی جارہی ہے۔ ہم سبھی اس کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ پیشہ ور مورخین اپنی تحریروں اور تدریس کے ذریعہ تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی ممکنہ مزاحمت کررہے ہیں۔ وہ تاریخ کو سائنٹفک اور غیرجانبدارانہ طریقہ سے لکھنے کے حامی ہیں۔ آل انڈیا ہسٹری سمٹ کا اہتمام سی ای آر ٹی نے سنٹر فار اسٹڈی اینڈریسرچ(سی ایس آر) حیدرآباد اور اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) کے اشتراک سے کیا ہے۔ جن موضوعات پر ماہرین تفصیلی بحث کریں گے ان میں ہسٹری آف انڈیا‘ کاسٹ اِن انڈین ہسٹری‘ مائناریٹیز اِن انڈیا ‘ اسلام اینڈ مسلمس اِن انڈین ہسٹری اور ہندوتوا اٹیمپس اِن انڈین ہسٹری شامل ہیں۔ چوٹی کانفرنس اتوار کی شام اختتام کو پہنچے گی۔

جواب چھوڑیں