پہلو خان کیس‘ گواہوں پر نامعلوم افراد کی فائرنگ

ہجومی تشدد میں پہلو خان کی ہلاکت کے کیس کے گواہوں بشمول پہلو خان کے 2فرزندوں پر آج دونامعلوم افراد نے مبینہ طورپر اُس وقت گولی چلائی جب وہ ضلع الور کے بہرور ٹائون میں ایک عدالت کے سامنے گواہی ؍شہادتی بیان دینے کیلئے جارہے تھے۔ پولیس نے بتایاکہ پہلو خان کے فرزند ارشاد کی شکایت پر نیم رانا پولیس اسٹیشن میں کیس درج کرلیا گیا اور تحقیقات شروع کردی گئی۔ الور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس راجندر سنگھ نے کہاکہ ’’ ہجومی تشدد کے کیس کے مذکورہ گواہوں نے پولیس کو ایک شکایت پیش کی جس کے بعد مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور ہم نے تحقیقات شروع کردی ہیں‘‘۔ ایف آئی آ ر میں کہا گیا کہ 6افراد بشمول پہلو خان کے فرزندان ارشاد اور عارف اور اُن کے وکیل بہرو ر میں عدالت کو جارہے تھے‘ اُس وقت بعض نامعلوم افراد نے جو ایک SUVکار میں آئے تھے ‘ اُن پر فائرنگ کردی ۔ مذکورہ کار پر کوئی رجسٹریشن نمبر نہیں تھا۔ یہاں یہ تذکرہ بیجانہ ہوگا کہ سالِ گذشتہ اپریل میں ایک ڈیری فارمر پہلو خان کو ضلع الور میں گائورکھشکوں نے مبینہ طورپر اُس وقت مارمار کر ہلاک کردیا تھا جب وہ ( پہلو خان) ‘ ہریانہ میں اپنے موضع کو مویشی منتقل کررہے تھے۔ ہجوم کو شبہ ہوا تھا کہ پہلو خان ‘ گائیوں کی اسمگلنگ کررہے تھے۔ مذکورہ حملہ کے دوروز بعد پہلو خان ‘ زخموں سے جانبر نہ ہوسکے۔ جئے پور رینج کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے سنگھ نے ایک بیان میں کہاکہ آج ہوئے مبینہ حملہ کے فوری بعد متاثرین نے پولیس کو اطلاع اور پولیس نے اُن کیلئے اسکارٹ ( حفاظتی دستہ) پیش کیا لیکن یہ افراد عدالت جانے کی بجائے ‘ شکایت درج کرانے ایس پی آفس گئے۔ سنگھ نے کہاکہ تمام گواہوں کیلئے سیکورٹی انتظامات کئے جائیں گے بشرطیکہ وہ اِس کی خواہش کریں ۔ اُنہوںنے کہاکہ پہلو خان لِنچنگ کیس کی روزانہ سماعت کیلئے درخواست ضلع کلکٹر وضلع جج سے کی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں