انڈونیشاء میں مہلوکین کی تعداد832 ہوگئی

تباہ کن زلزلہ اور سونامی سے انڈونیشیاء کے جزیرہ سلولیسی میں اموات کی تعداد اتوار کے دن بڑھ کر 832 ہوگئی۔ بچاؤ کارکن زندہ بچنے والوں کو ملنہ میں تلاش کررہے ہیں۔ ملک کی ڈیزاسٹر میجمنٹ ایجنسی کے ترجمان نے بتایاکہ جمعہ کے دن 7.5 شدت کے زلزلہ سے 24 لاکھ کی آبادی متاثر ہوئی۔ 3لاکھ 50ہزار کی آبادی والے ساحلی شہر پالو میں ایک شاپنگ مال ڈھیر ہوگیا اور ایک مسجد کا بڑا گنبد گرپڑا۔ سینکڑوں لوگ شدید زخمی ہوئے ہیں اور کم ازکم 17 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ بڑی مشینیں نہ ہونے اور عملہ کی کمی کے باعث پالو میں بچاؤ سرگرمیاں سست ہیں۔ ایک ہوٹل کے ملبہ میں دبے لگ بھگ 50افراد کو نکالنے کی کوشش جاری ہیں۔ برقی سربراہی منقطع ہے۔ ٹیلی فون بھی کام نہیں کررہے ہیں۔ سڑکیں تباہ ہوئی ہیں۔ انڈونیشیائی ریڈکراس (صلیب احمر) زندہ بچنے والوں کی مدد کیلئے کوشاں ہے۔ سی این این نے یہ اطلاع دی۔اے ایف پی کے بموجب انڈونیشیاء میں زلزلہ۔ سونامی ہلاکتوں کی تعداد اتوار کے دن دگنی ہوگئی یعنی وہ 800 سے زائد ہوگئی۔ بچاؤ کارکن جن کے پاس آلات نہیں ہیں، ملبہ میں پھنسے لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے اجتماعی تدفین شروع کردی ہے۔ پریشان حال شہریوں نے دکانوں سے غذا اور پانی کی بوتلیں لوٹ لی ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹرایجنسی کی ترجمان نے بتایاکہ اموات کی تعداد بڑھتی جائے گی۔ نائب صدر انڈونیشیاء یوسف کلا نے کہا کہ ہم آج سے اجتماعی تدفین شروع کررہے ہیںتاکہ وبائی امراض نہ پھیلیں۔ انہوں نے کہا کہ جزیرہ سلویسو کے شمال میں اموات کی تعداد ہزاروں میں ہوسکتی ہے کیونکہ کئی علاقوں تک بچاؤ کارکنوں کی رسائی ابھی نہیں ہوئی ہے۔ ایک 35 سالہ ماں نے بتایاکہ ہر منٹ ایک ایمبولنس نعشیں لے کر آرہی ہے۔ پینے کے صاف پانی کی قلت ہے۔ چھوٹی موٹی دکانیں اور بازار جابجا لوٹے جارہے ہیں۔ اسی دوران صدر انڈونیشیاء جوکو وڈیڈو آج علاقہ کے دورہ پر پہنچے۔ ہیوی مشنری کی کمی ہے۔ امدادی ایجنسیاں اور مقامی حکام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ پالوہسپتال کے پیچھے کھلے حصہ میں کئی نعشیں پڑی ہیں۔

جواب چھوڑیں