ایران خطہ اور عالمی سلامتی کیلئے خطرہ : متحدہ عرب امارات

مْتحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید نے کہا ہے کہ ایران ایک دن بھی خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشوں سے باز نہیں آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران عالمی اور خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ تہران کی طرف سے خطے کو کم زور کرنے کی سازشیں مسلسل جاری ہیں۔ سعودی عرب اور یمن کے لیے خطرہ بننے کے بعد ہم نے ایران کا مقابلہ کرنے کا عزم کیا۔’العربیہ‘ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں اماراتی وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی دباؤ کے باوجود ایران ایک دن بھی دہشت گردی کی معاونت، خطے میں انتشار پھیلانے اور اسلحہ سازی سے باز نہیں آیا۔عبداللہ بن زاید نے دعویٰ کیا کہ ایران نے امارات کے تین جزیروں پر غیر قانونی اور ناجائز تسلط قائم کر رکھا ہے۔ عالمی برادری ایرانی تسلط ختم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔علحدہ موصولہ اطلاع کے بموجب ایران دو بڑی تجارتی آبی گذرگاہوں آبنائے ہرمز اور باب المندب کی سکیورٹی کے لیے خطرے کا موجب بن رہا ہے۔یہ بات بحرینی وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد بن محمد آل خلیفہ نے ہفتے کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ایرانی رجیم یمن میں حوثی ملیشیا کی معاونت کررہا ہے اور اس طرح وہ پڑوسی ممالک کو ڈرا دھمکا رہا ہے۔ ایران نے دراصل خطے میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی حمایت کی پالیسی ا ختیار کررکھی ہے۔اس کی جارحیت سے نمٹنے اور سکیورٹی اور دفاع کے لیے خطے کے ممالک کے درمیان ایک تزویراتی اتحاد ناگزیر ہے‘۔شیخ خالد نے عالمی اجتماع میں ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ عراق کے داخلی امور میں مداخلت کا سلسلہ بند کردے۔انھوں نے شام میں جاری بحران کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا اور شام کی علاقائی سالمیت کو برقرار کے لیے کوششوں کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے وہاں سے ایرانی ملیشیاؤں کو نکال باہر کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

جواب چھوڑیں