رافیل معاملت کی مدافعت: وی کے سنگھ

مملکتی وزیر خارجہ جنرل وی کے سنگھ نے یہ کہتے ہوئے کہ رافیل لڑاکا طیارہ معاملت کی مدافعت کی ہے کہ حکومت نہیں بلکہ آلات بنانے والی کمپنی آفسیٹ کنٹراکٹ کیلئے اپنے پارٹنر کا انتخاب کرتی ہے۔ دبئی کے ہندوستانی قونصل خانہ میں ہفتہ کی شام ہندوستانی برادری سے خطاب میں جنرل سنگھ نے کہا کہ فرنچ ایرواسپیس کمپنی ڈسو ایویشن نے سرکاری ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ کو اس لائق نہیں سمجھا تو اس پر کوئی شورشرابہ نہیں ہوناچاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسو نے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ کو اس لائق نہیں سمجھا تو ہمیں شورشرابہ نہیں کرناچاہئیے۔ آلات بنانے والی کمپنی طئے کرتی ہے کہ وہ آفسیٹ ٹھیکہ کس کو دے، فیصلہ ڈسو نے کیا۔ یہ کمپنی کئی کمپنیوں کا انتخاب کرتی ہے اور انیل امبانی کی کمپنی ان میں ایک ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی نے اس وقت کے صدرفرانس اولاند سے 10اپریل 2015ء کو پیرس میں بات چیت کے بعد 36 رافیل لڑاکا طیارے خریدنے کا اعلان کیاتھا۔ قطعی معاملت 23 ستمبر2016ء کو طئے پائی تھی۔ فرنچ میڈیا کی اس رپورٹ کے بعد تنازعہ پیدا ہوگیا کہ اولاند نے کہا ہے کہ حکومت ہند نے انیل امبانی کی ریلائنس ڈیفینس کا نام ڈسو کی شراکت دار کے طور پر پیش کیاتھا اور فرانس کے پاس سوائے اس انتخاب کے کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ رافیل معاملت 58ہزار کروڑ کی ہے۔ اولاند کے بیان کے بعد اپوزیشن جماعتوں کا سخت ردعمل سامنے آیاتھا۔انہوں نے حکومت پر بڑے پیمانہ پر بے قاعدگیوں اور ریلائنس ڈیفینس کو فائدہ پہنچانے کا الزام عائد کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلائنس کو ایرواسپیس کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔حکومت ہند کا کہنا ہے کہ اسے یہ نہیں پتہ کہ ڈسو نے کس کا انتخاب کیا۔ ڈسو ایویشن کا کہنا ہے کہ اس نے ریلائنس کو اپنی شراکت دار بنانے کا فیصلہ خود کیا۔ جنرل سنگھ نے جو ہندوستانی فوج کے سابق سربراہ ہیں، حکومت کے فیصلہ کی مدافعت کی اور کہا کہ ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ پر کافی بوجھ ہے اور اسے کئی کام کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک آلات کی بات ہوتی ہے، رازداری برتنی ہی پڑتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 126طیاروں کی اسمبلنگ ہندوستان میں ہونی ہے۔ ہم 36 طیارے فلائی اوے حالت میں خریدرہے ہیں یعنی یہ طیارے پرواز کے لئے پوری طرح تیارہوتے ہیں۔ جنرل سنگھ نے اپوزیشن پرتنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات چنگاری یا آگ کے بغیر بھی دھواں اٹھتا ہے۔

جواب چھوڑیں