سیکولر ٹی آر ایس کی بی جے پی کے ساتھ مفاہمت۔ کاماریڈی میں ریونت ریڈی کا روڈ شو

علیحدہ تلنگانہ کا قیام سونیا گاندھی کی مرہون منت ہے اسمبلی انتخابات میںمجلس، پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کے ساتھ انتخابی مفاہمت کرنے والی ٹی آر ایس کو اقتدار سے بیدخل کرنا وقت کا اہم تقاضہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار کارگذار صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کاماریڈی میں روڈ شو سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوںنے کہا کہ علیحدہ تلنگانہ کا قیام 1200 نوجوانوں کی قربانیوں اور سونیا گاندھی کی مرہون منت کا نتیجہ ہے ، لیکن چندر شیکھر راؤ نے زبانی اعلانات کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرلیا اور 52 ماہ کا لمبا عرصہ بیت چکا ہے اس عرصہ میں کے سی آر کے ارکان خاندان کو ہی فائدہ حاصل ہوا جبکہ عوام اور نوجوان بے حد پریشان رہے ہیں۔ اقتدار ملنے کے بعد کانگریس ، کسانوں کے 2لاکھ روپے کا قرض معاف کردے گی۔ انہوں نے ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ پر ڈبل بیڈرومس ، مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی، ہر منڈل میں 30بستروں کے ہاسپٹل کی تعمیر کے وعدوں کی عدم تکمیل کا الزام عائد کیا ۔ کے سی آر نے شادنگر میں انتخابات سے قبل مسلمانوں کو اندرون4ماہ12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا اب4سال کا عرصہ بیت چکا ہے مگر ان کے اعلانات صرف زبانی‘ کاغذ کی زینت ثابت ہوئے ہیں۔ قائدین اپوزیشن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے انتخابی منشور میں صحافیوں کو مفت امکنہ اراضی اور 5لاکھ روپے فراہم کرنے کا وعدہ شامل کیا جائے گا ۔ انہوںنے کہا کہ کانگریس کے دور اقتدار میں کاماریڈی میں اندرا گاندھی اسپورٹس اسٹیڈیم تعمیر کیا گیا ۔ڈئیری ٹکنالوجی کالج قائم کیا گیا ۔ گائتری شوگر فیاکٹری ، 400برقی سب اسٹیشن قائم کئے گئے جبکہ گمپا گوردھن کے10سالہ دور میں صرف موریاں ( ڈرین) تعمیر کی گئیں قبل ازیں ریونت ریڈی، محمد علی شبیر کا ضلع کی سرحد پرشاندار خیر مقدم کیا گیا ۔ اس موقع پر مدن موہن ، طاہر بن حمدان بھی موجود تھے ۔

جواب چھوڑیں