لکھنو میں ایپل کے ایگزیکیٹیو کی آخری رسومات

 ایک خانگی کمپنی کے جس ایگزیکیٹیو کو کانسٹبلوں نے شہر کے گومتی نگر علاقہ میں گولی مارکرہلاک کیاتھا، اتوار کے دن اس کی آخری رسومات اترپردیش کے وزراء اور ارکان خاندان کی موجودگی میں انجام دی گئیں۔ 38 سالہ وویک تیواری کو کانسٹبل پرشانت چودھری اور کانسٹبل سندیپ کمار نے ہفتہ کے دن اس وقت گولی ماری تھی جب وہ اپنی ساتھی ثناء خان کو چھوڑنے جارہا تھا۔ تیواری کی آخری رسومات ریاستی وزیر برجیش پاٹھک اور مقامی رکن اسمبلی آشوتوش ٹنڈن کی موجودگی میں انجام دی گئیں۔ واقعہ کے بارے میں پوچھنے پر پاٹھک نے کہا کہ یہ بدبختانہ واقعہ ہے اور مہلوک کے ارکان خاندان سے ہمیں پوری ہمدردی ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ اس کیس کی یکسوئی جلد سے جلد ہو تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف ملے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پرنسپل سکریٹری داخلہ اور ڈائرکٹرجنرل پولیس سے خواہش کی ہے کہ بڑے شہروں میں حساس ملازمین پولیس کوتعینات کیاجائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ خاطیوں کے خلاف سخت کاروائی ہو۔ ضرورت پڑنے پر سی بی آئی تحقیقات کی سفارش بھی کی جائے گی۔ واقعہ پر افسوس ظاہرکرتے ہوئے اترپردیش کے ڈائرکٹرجنرل پولیس اوپی سنگھ نے کہا کہ کتنی ہی معافی مانگ لی جائے، ایک بیش قیمتی جان کی تلافی نہیں ہوسکتی اور نہ متاثرہ خاندان کا زخم بھرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مہلوک کی چھوٹی بچیوں ، بیوہ اور دیگر ارکان خاندان سے دلی ہمدردی ہے۔ انہوں نے اپنے ملازمین کے مجرمانہ طرز عمل کی مذمت کی اور کہا کہ ہم وردی میں چھپے ایسے سرکش عناصر کو سخت سزاء دلاکر رہیں گے جن سے ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہم نے پولیس فورس میں اصلاحات بھی شروع کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یوپی پولیس میں 360ڈگری کی اصلاحات کے لئے پوری مشقت کررہے ہیں۔ میری آپ سبھی سے خواہش ہے کہ لکھنو کے اس ایک واقعہ کے لئے ہماری فورس کے تعلق سے حتمی رائے قائم نہ کی جائے۔ اصلاحات کے سفر میں ہمیں آپ کا تعاون چاہئیے۔ دونوں کانسٹبلوں کو گرفتارکرکے نوکری سے برخواست کیاجاچکا ہے۔ ثناء خان کی خواہش پر ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔ اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے کہاتھا کہ ضرورت پڑنے پر سی بی آئی کی تحقیقات کی سفارش کی جائے گی۔ کانسٹبل پرشانت چودھری کا تاہم کہنا ہے کہ شک آنے پر اس نے ایس یو وی والے سے کہاتھا کہ وہ گاڑی سے باہرآئے ، لیکن اس نے میری بات نہیں مانی اور اس کے بجائے مجھے ٹکردینے کی کوشش کی۔ اسی وجہ سے میں نے اپنے دفاع میں گولی چلائی۔ گولی ونڈاسکرین کے آرپار ہوگئی اور کار ایک پلر سے جاٹکرائی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے بعدازاں توثیق ہوئی کہ وویک تیواری کی موت گولی لگنے سے ہوئی۔ ضلع مجسٹریٹ لکھنو کوشل شرما نے مجسٹریل انکوائری کا حکم دیا ہے۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس نے بھی معاملہ کی تحقیقات کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے۔ اترپردیش کانگریس کے صدر راج ببر اتوار کے دن وویک تیواری کے مکان گئے تھے، انہوں نے کہا کہ یوگی جی سیاست میں مصروف ہوں گے، انہیں مہلوک کی بچیوں سے ملنے کے لئے یہاں آنا چاہئیے تھا۔ دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال نے ٹوئٹر پر یوپی کی بی جے پی حکومت کو گھیرا ۔ انہوں نے کہاکہ وہ وویک تیواری کی بیوہ کلپنا سے فون پر بات چیت کرچکے ہیں۔

جواب چھوڑیں