مسئلہ کشمیر حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن ممکن نہیں:شاہ محمود قریشی

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں ناموس رسالت کا مسئلہ بھی اٹھایا۔نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73ویں سالانہ اجلاس سے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل نہ ہونا خطہ میں امن کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔جنرل اسمبلی سے اردو میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی اْس رپورٹ کا خیر مقدم کرتا ہے جس میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی نشاندہی کی گئی ہے اور کہا کہ پاکستان اس پر عمل کا مطالبہ کرتا ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آزاد کمیشن کے قیام کو خوش آمدید کرے گا۔انھوں نے ساتھ میں امید ظاہر کی کہہندوستان بھی اس کمیشن کے قیام کو تسلیم کرے گا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ منفی رویے کی وجہ سے مودی حکومت نے تیسری مرتبہ امن کے حصول کے لیے موقع گنوادیا ہے۔ انہوں نے ہندوستان پر الزام لگایا کہ اس نے اقوام عالم کے سامنے کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کو فروغ دیا ہے جس کے سبب سات دہائیوں سیانڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے عوام انسانی حقوق کی پامالی سہتے آرہے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہہندوستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی کے باوجود پاکستان نے صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے لیکن اگرہندوستان نے اسے عبور کرنے کی کوشش کی تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔انھوں نے ہندوستان پر الزام لگایا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں ہونے والے بڑے دہشت گردی کے واقعات جیسے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ اور مستونگ میں بم دھماکے کے تانے بنانے ہندوستان سے ملتے ہیں۔وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی حراست میں ہندوستانی نیوی کا عہدیدار کلبھوشن جادھو بھی ہے جس نے ایسے شواہد فراہم کیے ہیں جس سے واضح ہے کہ ہندوستان کا پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے ہاتھ ہے۔ساتھ ساتھ شاہ محمود قریشی نے کہا کہہندوستان بین الاقوامی برداری کے سامنے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی دہشت گردی کھلے عام کر رہا ہے اور یہ تمام عالمی برادری کے لیے نہایت باعث تشویش ہے کہ وہ کس طرح انسانی حقوق سلب کر رہا ہے۔اقوام متحدہ کا 73واں سالانہ اجلاس نیو یارک میں جاری ہے ۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب کے آغاز میں اقوام متحدہ کے حکام کا شکریہ ادا کیا اور سابق سابق سکریٹری جنرل کوفی عنان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔وزیرخارجہ نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں ناموس رسالت کا مسئلہ بھی اٹھایا اور ہالینڈ میں حالیہ دنوں ہونے والے گستاخانہ خاکوں کا مقابلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے منصوبہ سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا افغانستان اور پاکستان کافی عرصے سے بیرونی قوتوں کی غلط فہمیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ انھوں نے افغانستان میں شدت پسند تنظیم داعش کی موجودگی پر باعث تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اسلام آباد امن عمل کے لیے کابل میں ہونے والی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان طویل ترین عرصے سے غیرملکی پناہ گزینوں کو پناہ دیتا آ رہا ہے اور اس کی مثال نہیں ملتی اور دوسری جانب دیگر ممالک پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا خواہاں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ پر کسی قسم کی سودے بازی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے سب سے قدیم امن مشن دستے کا میزبان بھی رہا ہے اور آزادی سے کے کر اب تک اقوام متحدہ کے منشور کا پاسدار اور فعال رکن رہا ہیاور وہ ہمیشہ عالمی مفادات کے حصول کیلئے کوشاں رہے گا۔عالمی حالات کے بدلتے تناظر میں ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں برداشت کی جگہ نفرت کی بڑھتی جارہی ہے، تجارتی جنگ کے گہرے بادل افق پر نمودار ہیں اور ترقی کی راہوں میں نئی مشکلات درپیش ہیں جو قابل تشویش ہے۔

جواب چھوڑیں