ملک کی خودمختاری اور عزت پر سمجھوتہ نہیں۔من کی بات پروگرام سے وزیر اعظم مودی کا خطاب

وزیراعظم نریندرمودی نے پڑوسی ملک پاکستان کا نام لئے بغیر آج کہا کہ ہندوستان اپنی خودمختاری ،عزت اور وقار کے ساتھ کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کریگا اور دہشت گردی کا منہ توڑ جواب دے گا۔ مودی نے اتوار کو آکاشوانی پر نشر ہونے والے اپنے ماہانہ’ من کی بات‘ پروگرام کے 48ویں ایڈیشن میں ملک سے خطاب کرتے ہوئے فوج کے جوانوں کی تعریف کی۔ سرجیکل اسٹرائک کی سالگرہ پر منائے گئے ’پرارکرم پرو‘ کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا،’’اب یہ طے ہوچکا ہے کہ ہمارے فوجی ان سب کو منہ توڑ جواب دیں گے جو ہمارے ملک میں بدامنی پھیلائیں گیاور ترقی میں رکاوٹ پیدا کریں گے۔ہم امن میں یقین رکھتے ہیں اور اسے فروغ دینے کیلئے پرعزم ہیں لیکن عزت و احترام سے سمجھوتہ کرکے اور ملک کی خودمختاری کی قیمت پر قطعی نہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ شاید ہی کوئی ہندوستانی ہوگا جو اپنی مسلح افواج،فوج کے جوانوں پر فخر نہ کرتا ہو۔ہر ہندوستانی چاہے وہ کسی بھی علاقے،ذات ،مذہب ،عقیدے یا زبان کا کیوں نہ ہو،اپنے فوجیوں کے تئیں اپنی خوشی اور حمایت ظاہر کرنے کیلئے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ہندوستانیوں نے کل 2016میں ہوئی اس سرجیکل اسٹرائک کو یاد کیا تھا جب ہمارے فوجیوں نے ملک پر دہشت گردی کی آڑ میں پروکسی وار کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دیاتھا۔ملک میں الگ الگ مقامات پر مسلح افواج نے نمائش لگائی تاکہ زیادہ سے زیادہ ملک کے شہری خصوصاً نوجوان نسل اپنے ملک کی طاقت سے واقف ہوسکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پراکرم پرو جیسا دن نوجوانوں کو مسلح افواج کی ْپرفخر وراثت کی یاد دلاتا ہے اور ملک کے اتحاد اور سالمیت کو یقینی بنانے کی تحریک بھی دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ ہی امن وسکون کے تئیں پرعزم اور وقف رہا ہے۔بیسویں صدی میں دو عالمی جنگوں میں ایک لاکھ سے زیادہ ہندوستانی فوجیوں نے امن کے تئیں اپنی قربانی دی جبکہ اس لڑائی سے ہندوستان کا کوئی واستہ نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی نظر کسی اور کی زمین پر کبھی نہیں تھی۔کچھ دن پہلے ہی 23 ستمبر کو اسرائیل میں خیفہ کی لڑائی کے ایک سو سال پورے ہونے پر میسور ،حیدرآباد اور جودھ پور لانسرکے ان بہادر فوجیوں کو یاد کیاگیا جنہوں نے حملہ آوروں سے حیفہ کو نجات دلائی تھی۔یہ بھی امن کی سمت میں ہندوستانی فوجیوں کا ایک پراکرم تھا۔آج بھی اقوام متحدہ کی الگ الگ امن افواج میں ہندوستان سب سے زیادہ فوجی بھیجنے والے ملکوں میں سے ایک ہے۔دہائیوں سے ہمارے بہادر فوجیوں نے نیلی ٹوپی پہن کر دنیا میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔فضائیہ کے پراکرم کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ آسمان میں اپن طاقت کا مظاہرہ کرکے ہندوستانی فضائیہ نے ملک کے ہر شہری کی توجہ اپنی طرف مرکوز کی ہے اور تحفظ کا احساس دلایا ہے۔انہوں نے 8 اکتوبر کو’یوم فضائیہ ‘کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1932میں چھ پائلٹ اورفضائیہ کے 19جوانوں کے ساتھ ایک چھوٹی سے شروعات سے بڑھتے ہوئے ہندوستانی فضائیہ آج 21ویں صدی کی سب سے طاقت ور فضائی افواج میں شامل ہوچکی ہے۔ مودی نے کہا کہ راحت اور بچاؤکام اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں فضائی افواج کے تئیں ملک شکر گزار ہے۔طوفان اور سیلاب سے لے کر جنگلاتی آگ تک کی قدرتی آفات سے نمٹنے اور ملک کے عوام کی مدد کرنے کا ان کا جذبہ غیر معمولی رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں صنفی مساوات یعنی خواتین اور مرد کی برابری کو یقینی بنانے میں فضائیہ نے مثال قائم کی ہے اور اپنے ہر محکمے کے دروازے ملک کی بیٹیوں کیلئے کھول دئے ہیں۔فضائی افواج خواتین کو شارٹ سروس کمیشن کے ساتھ مستقل کمیشن کا آپشن بھی دے رہی ہے۔ہندوستان فخر سے کہہ سکتا ہے کہ ہندوستان کی فوج میں مسلح افواج میں مردوں کی طاقت ہی نہیں،خواتین کی طاقت کا بھی اتنا ہی تعاون بڑھتا جارہا ہے۔خواتین خود مختار تو ہیں ہی،اب مسلح بھی بن رہی ہیں۔ مودی نے کہا،’’ ملک کیلئے اپنی خدمات دینے والے فضائیہ کے سبھی جوان اور ان کے کنبوں کا میں دل کی گہرائی سے شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ 1947میں جب پاکستان کے حملہ آوروں نے ایک غیر متوقع حملہ شروع کیاتھا تو یہ فضائی فوج ہی تھی جس نے سرینگر کو حملہ آوروں سے بچانے کیلئے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہندوستانی فوج جنگی سازوسامان کے میدان تک وقت پر پہنچ جائے۔فضائی افواج نے 1965 میں بھی دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیا۔ 1971میں بنگلہ دیش کی آزادی کی لڑائی کے بارے میں کون نہیں جانتا۔

جواب چھوڑیں