مودی نے پرانا خواب پورا کرنے پر ’ امول ‘کا شکریہ اداکیا

وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ایک پرانے خواب کو پورا کرنے پر کوآپریٹو سسٹم سے دودھ اور دودھ بنانے والے معروف برانڈ امول کا آج شکریہ ادا کیا۔ مودی نے اپنی آبائی ریاست گجرات کے آنند شہر کے موگر ضلع میں تقریباً 190کروڑروپئے کی لاگت سے قائم کردہ 1000ٹن فی ماہ دودھ بنانے کی صلاحیت کے حامل چاکلیٹ پلانٹ کا افتتاح ،کولکتہ میں قائم ہونے والے امول کے پہلے ڈیری پلانٹ کا آن لائن سنگ بنیاد ،میڈیسینل فوڈکے ایک ٹیک ہوم راشن پلانٹ اورآنند ایگریکلچر یونیورسٹی میں فوڈ پراسیسنگ کے اسٹارٹ اپ سے متعلق ایک شعبہ کے افتتاح سمیت 1100کروڑ روپے کے پروجیکٹ کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا۔اس کے بعد کسانوں کے ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برسوں پہلے جب وہ گجرات کے چیف منسٹر کے عہدے پر فائز تھے توانہوں نے اونٹنی کے دودھ کی غذائیت کے بارے میں بیان دیا تھا۔ اس پر اپوزیشن نے ان کا بہت مذاق اڑایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسے لوگ تھے جو خود کو بہت بڑے عالم سمجھتے ہیں لیکن اپنی سمجھ کے دائرے سے باہر کی چیز کو نہ تو قبول کرتے ہیں اور نہ ہی کھلے عام مخالفت کرنے کی ہمت رکھتے ہیں،بس مذاق اڑاتے ہیں۔لیکن اب امول نے اونٹنی کے دودھ سے بنے چاکلیٹ پیش کیے ہیں اور ان کی بہت مانگ بھی ہے۔اونٹنی کا دودھ گائے کے دودھ سے دوگنا مہنگا ہوگیا ہے۔’’میں اپنے اس پرانے خواب کو پورا کرنے کیلئے امول کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘انہوں نے کہا کہ اب ریگستان میں اونٹ پالنے والوں کو روزی روٹی کا نیا سہارا مل گیا ہے۔انہیں خوشی ہے کہ امول نے اتنے سال بعد ان کے اس خواب کو پورا کیا۔وہ غذائیت کیلئے ہمیشہ سے بہت کچھ کرتے رہے ہیں کیونکہ واضح طورپر ان کا خیال ہے کہ ماں اور بچے صحت مند ہوں گے تو ملک کبھی بیمار نہیں ہوسکتا۔ مودی نے کہا کہ امول 40ملکوں میں ایک برانڈ بن گیا ہے۔یہ صرف دودھ بنانے کا کاروبار ہی نہیں کرتا بلکہ ملک کی ایک پہچان ،تحریک اور ضرورت بن گیا ہے۔اس کی پرعزم قیادت میںہمیشہ سے ہی نئی سوچ رہی ہے اور اب امید ہے کہ یہ دو سال بعد اپنے وجود میں آنے کے 75سال اور 2022میں آزادی کے 75سال پورے ہونے تک ملک کو مِلک پروسیسنگ کے شعبہ میں دسویں سے تیسرے نمبر پر لانے کے ہدف کے ساتھ کام کرے گا۔یہ کوڑے کرکٹ سے چیزیں بنانے کے منصوبے کے تحت گوبردھن کے استعمال کے معاملے میں بھی مدد کریگا تاکہ توانائی کیلئے غیر ملکوں پر ہندوستان کے انحصار میں کمی آئے۔ مودی نے امول سے اپنے بڑے مِلک کلیکشن نیٹ ورک کا استعمال مڈ ڈے میل کیلئے دور دراز کے گاؤں میں غذائیت سے بھرپور کھانا پہنچانے کیلئے بھی کام کرنے کی تجویز دی۔

جواب چھوڑیں