پرنس سلمان کے دور میں سعودی عورتیں یوگا کرنے لگیں

 قدامت پسند اسلامی مملکت سعودی عرب میں ایک سال قبل تک یوگا ممنوع تھا۔ ہندو روحانی رواج یوگا کی سرکاری طور پر اجازت نہیں تھی۔اسلام کے گہوارہ سعودی عرب میں تمام غیر مسلم عبادتیں ممنوع ہیں لیکن کراؤن پرنس محمد بن سلمان کے اعتدال پسند اسلام کی وکالت کے ساتھ ہی گذشتہ برس نومبر میں یوگا کو اسپورٹ تسلیم کرلیاگیا۔ اب مذہبی سخت گیر لوگ درکنارہوچکے ہیں۔ 38 سالہ سعودی خاتون نوف مروائی عرب یوگا فاؤنڈیشن کی سربراہ ہیں۔ اس فاؤنڈیشن نے مملکت میں سینکڑوں یوگا انسٹرکٹرس کو تربیت دی ہے۔ اس خاتون نے جدہ کے ایک خانگی اسٹوڈیو میں یوگا سکھانا شروع کیاتھا۔ اب سعودی عورتیں یوگا آسن کرنے لگی ہیں۔ سعودی عرب میں چند ماہ میں یوگا اسٹوڈیوز اور انسٹرکٹرس کی ایک انڈسٹری مختلف شہروں میںاُبھرچکی ہے۔ ان شہروں میں اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ اور مدینہ بھی شامل ہیں۔

جواب چھوڑیں