پشاوراسکول حملہ کیس میں ہمارا ہاتھ کیسے ہوسکتا ہے ؟ محمود قریشی کے الزام پرہندوستان کا سخت ردعمل

ہندوستان نے اتوار کے دن پاکستان پر جوابی تنقید کی اور کہا کہ اس کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا اقوام متحدہ میں یہ الزام بے بنیاد ہے کہ پشاور کے ایک اسکول پر 2014کے حملہ میں ملوث دہشت گردوں کی مدد ہندوستان نے کی تھی۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مشن کی سفارت کار اینم گمبھیر نے ہندوستان کا جواب دینے کا اختیار استعمال کیا اور قریشی کے بے بنیاد الزام کو مسترد کردیا جو انہوں نے کل رات جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں عائد کیاتھا۔ انہوں نے وزیراعظم عمران کی نئی پاکستانی حکومت کو یاد دلایا کہ 2014 ء میں پاکستانی بچوں کے قتل عام پر ہندوستان میں بڑے دکھ کا اظہارکیاگیاتھا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے اظہاریگانگت کیاتھا ۔ہندوستان بھر کے اسکولوں نے پاکستانی بچوں کی یاد میں 2منٹ کی خاموشی منائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزام اس شیطان سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے جو پاکستان نے اپنے پڑوسیوں کو غیر مستحکم کرنے پیدا کیاہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاتھا کہ پاکستان، پشاور کے اسکول میں 150 سے زائد بچوں کے اجتماعی قتل کو کبھی نہیں بھولے گا۔ حملہ آوروں کو ہندوستان کی مددحاصل تھی۔ 8 تا10 طالبان خودکش بمباروں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کیاتھا ۔ انہوں نے کئی کو یرغمال بنالیاتھا۔ حملہ آور، نیم فوجی فورس فرنٹیر کارپس کی وردی پہنے ہوئے تھے۔ آئی اے این ایس کے بموجب ہندوستانی وزیرخارجہ سشما سوراج کے خطاب کے بعد شاہ محمود قریشی نے اپنی تقریر میں پاکستان کو دہشت گردی کا شکار ملک بتانے کی کوشش کی۔ اسی سلسلہ میں انہوں نے پشاور اسکول حملہ کیس کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کلبھوشن جادھو کا مسئلہ بھی اٹھایاجسے پاکستانی فوجی عدالت میں جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ کلبھوشن جادھو نے ہندوستان کی انٹلیجنس سرویس کیلئے کبھی بھی کام نہیں کیا۔ اسے اغوا کیاگیا اور جھوٹے کیس میں پھنسایاگیا۔ ہندوستانی نمائندہ اینم گمبھیر نے قریشی کے اس دعوے کو بھی چیلنج کیاکہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی میںپیش رفت کررہا ہے۔ گمبھیر نے سوال کیاکہ کیاپاکستان اس حقیقت کی تردید کرے گا کہ اس نے اقوام متحدہ نے جن 132افراد کو دہشت گردبتایا ہے انہیں پناہ دے رکھی ہے۔ وہ ایسے 22 دہشت گرد اداروں کو بھی بڑھاوا دے رہا ہے جن پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی پابندیاں عائد ہیں۔ انہوں نے قریشی سے یہ بھی سوال کیاکہ کیا پاکستان اس بات کی تردید کرے گا کہ حافظ سعید کو پاکستان میں کھلی چھوٹ حاصل ہے، وہ ہندوستان کے خلاف زہراگلتا رہتا ہے اور اس نے الیکشن میں اپنے امیدوار بھی ٹہرائے تھے۔ لشکرطیبہ کے بانی اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو امریکہ نے بین الاقوامی دہشت گرد قراردیا ہے۔ حافظ سعید کو ممبئی دہشت گرد حملہ (2008ئ) کا منصوبہ ساز بھی کہاجاتا ہے۔ اس حملہ میں 164افراد ہلاک ہوئے تھے۔ لشکر طیبہ نے ممبئی میں 2006ء میں لوکل ٹرینوں میں دھماکے کئے تھے اور سال 2001ء میں ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملہ میں بھی اسی کا نام آیاتھا۔

جواب چھوڑیں