چندرا بابو نے تلنگانہ کی ترقی کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی: کے ٹی آر

کارگزار ریاستی وزیر برائے انفارمیشن ٹکنالوجی کے تارک راما رائو نے کانگریس کی جانب سے ریاست تلنگانہ کے عوام کی دشمن سیاسی جماعت تلگودیشم پارٹی سے انتخابی اتحاد کرنے پر افسوس کااظہار کیا جبکہ چندرابابو نائیڈو نے مرکزمیں برسر اقتدار بی جے پی پر دبائو ڈال کر تلنگانہ کے 7 منڈلس کو آندھراپردیش میں شامل کرنے کے لئے آرڈیننس جاری کروایا تھا۔ چندرابابو نائیڈو نے تلنگانہ ریاست کی ترقی کو روکنے کے لئے آبپاشی پراجکٹس کی تعمیری کام کو روکنے کیلئے سازش کی تھی۔ کے تارک راما رائو آج تلنگانہ بھون میں منعقد اجلاس کو مخاطب کررہے تھے۔ اسمبلی حلقہ کاماریڈی ، ایلاریڈی سے تعلق رکھنے والے آریہ وایشا سنگھم کے قائدین نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ کے تارک راما راؤ نے انہیں پارٹی کا کھنڈوا پہناکر پارٹی میں شامل کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام کو بھروسہ ہوگیا ہے کہ ٹی آر ایس ہی ان کی قابل بھروسہ پارٹی ہے۔ ٹی آر ایس کو ووٹ دینے سے ہی کے چندر شیکھر رائو دوبارہ چیف منسٹر کے عہدے پر فائز ہوں گے جبکہ کانگریس کو ووٹ دینے سے یہ ووٹ دہلی کو چلا جائے گا اور تلگودیشم پارٹی کو ووٹ دینے سے ووٹ امراوتی کو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی حلقہ کاماریڈی سے محمد علی شبیر کی شکست یقینی ہے اگر اس مرتبہ ٹی آر ایس کا امیدوار کامیاب ہوگا تو یہ ٹی آر ایس کی پانچویں کامیابی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جناسمیتی کا تلنگانہ ریاست میں کوئی سیاسی مقام نہیں ہے۔ پروفیسر کودنڈا رام تلنگانہ جنا سمیتی کے امیدوار کو ایک بھی نشست سے کامیابی نہیں دلاسکتے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس کے امیدوار 100 اسمبلی حلقوں سے ضرور کامیابی حاصل کریں گے۔ اس موقع پر رکن پارلیمنٹ ٹی آر ایس بی سمن، میئر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن بی رام موہن کے علاوہ دیگر موجود تھے۔

جواب چھوڑیں