انڈونیشیا میں مہلوکین کی تعداد 1203 ہوگئی۔حکومت نے متاثرین کے لئے بین الاقوامی امداد قبول کرلی

انڈونیشیا میں جمعہ کے زلزلہ اور سونامی سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1203ہوگئی ہے۔ اس میں مزید اضافہ کا امکان ہے۔ پیر کے دن صدر وڈیڈو کی حکومت نے کہا کہ وہ بیرونی امداد قبول کرے گی۔ کوئیک ایکشن ٹیم کے نائب صدر انسان نورالرحمن نے کہا کہ اموات بڑھ سکتی ہیں کیونکہ کئی لوگ بشمول 61 بیرونی شہری لاپتہ ہیں۔ 540 شدید زخمیوں کا کئی ہسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 16,732 افراد 123 مقامات پر تخلیہ کیمپس میں ٹھہرائے گئے ہیں۔ صدر وڈیڈو نے کل رات انویسٹمنٹ کوآرڈینیٹنگ بورڈ کو اختیار دیا کہ وہ بین الاقوامی امداد قبول کرے۔نیشنل ڈیزاسٹر میٹیگیشن ایجنسی کے ترجمان نے بتایا کہ وزیر خارجہ ایل پی مرسودی سے ربط پیدا کیا گیا ہے جو نیویارک میں ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر کی اجازت کا مطلب یہ ہے کہ ہم امداد کی بین الاقوامی پیشکش قبول کرسکتے ہیں۔ نیوز ایجنسی انتارا نے یہ اطلاع دی۔ وزارت خارجہ اور ڈیزاسٹر میٹیگیشن ایجنسی اس کا طریقہ کار طے کررہے ہیں۔ پالو سے اے ایف پی کے بموجب انڈونیشیائی رضاکاروں نے پیر کے دن ایک ہزار سے زائد نعشوں کی تدفین کے لئے اجتماعی قبریں کھودیں۔ زلزلہ اور سونامی نے جزیرہ سلویسی میں بھاری تباہی مچائی ہے۔ حکام نے بین الاقوامی مدد کی اپیل کی ہے۔ انڈونیشیا میں آفات سماوی نئی بات نہیں۔ جکارتہ دکھانا چاہتا ہے کہ وہ اس تباہی سے نمٹنے کا اہل ہے۔ 4 دن بعد بھی بعض دوردراز علاقوں تک ابھی نہیں پہنچا جاسکا۔ دوائیں ختم ہوتی جارہی ہیں۔ بچاؤ کارکنوں کے پاس ہیوی مشنری کی کمی ہے ۔ عمارتوں کے ملبہ میں پھنسے لوگ مدد مانگ رہے ہیں۔ صدر جوکو وڈیڈو نے بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں اور این جی اوز کے لئے دروازے کھول دیئے ہیں جو مدد کے لئے لائن لگائے کھڑی ہیں۔ ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ صدر وڈیڈو نے کل رات ہمیں اجازت دے دی کہ ہم بین الاقوامی امداد قبول کریں۔

جواب چھوڑیں