جماعت اسلامی کے وفد کی کے سی آر سے ملاقات

امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ و اڈیشہ حامد محمد خاں نے پیر کو جماعت کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ پرگتی بھون میں نگرانکار چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کی اور کے سی آر سے ریاست کے مسلمانوں کے تعلیمی‘ معاشی و سماجی مسائل کی یکسوئی کے وعدوں کو پارٹی کے انتخابی منشور میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ نگرانکار ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی بھی اس بات چیت کے موقع پر موجود تھے۔ جماعت کے وفد اور کے چندر شیکھر راؤ کے درمیان بات چیت تقریباً ساڑھے چار گھنٹوں تک جاری رہی۔ حامد محمد خاں نے ٹی آر ایس سربراہ و نگرانکار چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ ایس سی ‘ ایس ٹی کے مماثل اقلیتوں کے لئے بھی سب پلان مدون کریں۔ اقلیتی اقامتی اسکولوں کے قیام کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ کو تعلیمی سفر جاری رکھنے کے لئے اقامتی جونیئر اور ڈگری کالجس کے قیام کی اشد ضرورت ہے۔ کے سی آر کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان اقامتی اسکولوں میں تقررات کے لئے اہل امیدواروں کیلئے اردو میں مہارت کو لازمی قرار دیا جانا چاہئے۔ سرکاری اقامتی اسکولوں میں عربی ٹیچرس کے تقررات پر زور دیتے ہوئے انہوں نے ان اسکولوں کے بچوں کے لئے نماز‘ قرآن کی تعلیم فراہم کرنے کی توجہ دلائی۔ جس پر کے چندرشیکھر راؤ نے کہا کہ وہ مشیر محکمہ اقلیتی بہبود اے کے خان کو اس سلسلہ میں توجہ دینے کے لئے ہدایت دیں گے۔ خان نے کہا کہ ٹی آر ایس کو پارلیمنٹ میں بابری مسجد اور مسلم پرسنل لاء کے خلاف بی جے پی کی سازشوں کو ناکام بنانا چاہئے۔ مسلمانوں کو ڈبل بیڈروم کے فلیٹس اور امکنہ اراضی اسکیم میں 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے اور دیگر کارپوریشن کے صدورنشین کے عہدوں پر مسلمانوں کو نامزد کرنے راجیہ سبھا اور کونسل میں مسلمانوں کو موثر نمائندگی دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ جس پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے برسر اقتدار آنے پر اس سلسلہ میں مثبت اقدامات کرنے کا تیقن دیا۔ وفد میں جنرل سکریٹری جماعت اسلامی ہند تلنگانہ ایم این بیگ زاہد ‘ سکریٹریز ملک معتصم خان‘ محمد اظہر الدین ‘ سید عبدالباسط انور‘ ڈاکٹر خالد مبشرالظفر رکن شوریٰ عبدالجبار صدیقی بھی موجود تھے۔ حامد محمد خان نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند کا ایک وفد صدر پردیش تلنگانہ اتم کمار ریڈی سے ملاقات کرے گا اور انہیں کانگریس کے منشور میں مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کے وعدوں کو شامل کرنے پر توجہ دلائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت کے اراکین شوریٰ کا اجلاس عنقریب منعقد کیا جائے گا اس اجلاس میں کس سیاسی جماعت کی تائید کی جائے ‘ اس بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں