رافیل معاملت میں مودی کی تائید نہ کی اور نہ کبھی کرونگا:شرد پوار

متنازعہ رافیل جیٹ معاملت میں وزیر اعظم نریندرمودی کی مبینہ طورپر ’ ’مدافعت‘‘ پر ہدف تنقید بنے ‘ صدر این سی پی شرد پوار نے آج مذکورہ الزام کی تردید کی ہے اورکہا ہے کہ وہ ایسی(مدافعت) ’’ ہرگز نہیں کریں گے‘‘۔ شرد پوار نے اپنے مبینہ ’’ مدافعتی‘‘ریمارکس کے ذریعہ ایک ہلچل پیدا کردی تھی کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ فرانس سے لڑاکا جیٹ طیاروں کی خریدی میں مودی کی نیت پر عوام کو ‘ کوئی شبہات ہیں ۔ پوار کے ریمارکس پر اعتراض کرتے ہوئے این سی پی کے بانی رکن طار ق انور اور جنرل سکریٹری مناف حکیم نے گذشتہ ہفتہ پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔ پوار کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا جب کانگریس نے رافیل معاملت پر وزیر اعظم کیخلاف شدیدتنقید شروع کی ہے اور مستقبل کے انتخابات کیلئے این سی پی کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ شرد پوار نے یہاں ایک پارٹی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’ بعض لوگوں نے مجھ پر تنقید کی ہے کہ میں ‘ مودی کی تائید کررہا ہوں ‘ میں نے مودی کی تائید نہیں کی ہے۔ میں نے مودی کی تائید نہ تو کی ہے اور نہ کبھی کروں گا۔ مذکورہ طیارے حکومت نے خریدے ہیں ۔ میں یہ صاف طورپر کہہ رہا ہوں کہ حکومت‘ پارلیمنٹ میں یہ وضاحت کرے کہ طیارہ کی قیمت‘ فی طیارے 650کروڑ روپئے سے بڑھا کر 1600کروڑ روپئے کیوں کردی گئی‘‘۔ یہاں یہ تذکرہ بیجانہ ہوگا کہ پوار کے حالیہ ریمارکس کو نریندرمودی کی مدافعت پر محمول کیا گیا تھا اور بی جے پی نے اِن ریمارکس کا خیر مقدم کیا تھا۔ مذکورہ ریمارکس کیلئے صدربی جے پی امیت شاہ نے شرد پوار کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ تاہم این سی پی نے دعویٰ کیا ہے کہ میڈیا نے پوار کے ریمارک کو ‘ اُس کے سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا ہے۔ صدر این سی پی نے آج اپنے اِس مطالبہ کا اعادہ کیا کہ رافیل معاملت کی تحقیقات ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعہ کرائی جائیں اور حکومت 36لڑاکا طیاروں کی قیمت کی تفصیلات بتائے۔ سابق وزیر دفاع پوار نے یہ بھی کہاکہ طیارہ سے متعلق فنی تفصیلات کو منظر عام پر لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پوار نے سابقہ منموہن سنگھ حکومت میں بحیثیت وزیر زراعت بھی خدمات انجام دی تھیں۔ اُنہوںنے کسانوں کے قرضہ جات 71ہزار کروڑ روپئے معاف کردینے کے‘ سابقہ یوپی اے حکومت کے فیصلہ کی ستائش کی۔

جواب چھوڑیں