شامی عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر ایرانی میزائل حملے

ایران کے پاسداران انقلاب نے آج دعوی کیا کہ اس نے مشرقی شام میں ان انتہاپسندوں کو نشانہ بنا کر بیالسٹک میزائل فائر کیا ہے جو اس کے فوجی پریڈ پر حملے کے ذمہ دار تھے۔ایرانی کی جانب سے مشرقی شام میں عسکریت پسندوں کو میزائل حملوں کے ذریعہ نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران کا الزام ہے کہ یہ عسکریت پسند گزشتہ ہفتہ ایران میں ایک عسکری پریڈ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں ملوث تھے۔ ایرانی انقلابی گارڈز کے خبررساں ادارہ سپاہ نیوز کی جانب سے آج بتایا کہ مغربی ایران سے6 میزائل مشرقی شامی علاقہ البوکمال پر داغے گئے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف اس کارروائی میں میزائلوں کے علاوہ بمبار ڈرونز کا بھی استعمال کیا گیا۔ایران کی فوج پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ اس نے شام میں ان ‘دہشت گردوں’ کے ہیڈکوارٹر پر میزائل داغے ہیں جو گذشتہ ماہ ایرانی شہر اہواز میں حملے میں ملوث تھے۔پاسدارانِ انقلاب نے اپنی ویب سائٹ ’’سپاہ نیوز‘‘ پر لکھا کہ پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ نے چند منٹ قبل اہواز پر دہشت گرد حملے میں ملوث عناصر کے دریائے فرات کے مشرق میں واقع ہیڈکوارٹر کو زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔22 ستمبر کو جنوبی شہر اہواز میں ایک فوجی پریڈ کے دوران مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی جس کے نتیجہ میں عام شہریوں سمیت کم از کم 24 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔پاسداران نے یکم اکتوبر کو اپنی ویب سائٹ یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں متعدد افراد مارے گئے ہیں۔ابتدائی معلومات کے مطابق اہواز حملے میں ملوث کئی دہشت گرد اور ان کے قائد مارے گئے ہیں یا زخمی ہوئے ہیں۔بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ حملہ کہاں سے کیا گیا، لیکن یہ ضرور لکھا ہے کہ جلد ہی اس حملے کی تفصیلات فراہم کر دی جائیں گی۔ویب سائٹ پر کئی تصاویر بھی پوسٹ کی گئی ہیں جن میں میزائل کا داغا جانا دکھایا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اہواز پر حملہ کے دوران حملہ آوروں نے فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں اور اس حملہ کی ذمہ شدت پسند تنظیم اور ایرانی حکومت مخالف عرب گروپ اہواز نیشنل رزسٹنس نے قبول کی تھی۔اہواز حملے میں 24 افراد مارے گئے تھے جن میں فوجی بھی شامل تھے۔حملے کے بعد ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے اہواز حملے کا الزام امریکہ کے حمایت یافتہ خلیجی ممالک پر لگاتے ہوئے ملک کی سکیورٹی فورسز کو حکم دیا تھا کہ اس حملہ کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔اس کے علاوہ ایرانی صدر حسن روحانی کہا تھا کہ یہ واضح ہے کہ یہ کام کس گروہ نے کیا اور وہ کس سے وابستہ ہے اور یہ کہ اس حملے کا قانون اور ملکی مفاد کے مطابق جواب دیا جائے گا۔‘ایران نے شام کے مشرقی علاقے البوکمال میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق گزشتہ ہفتہ انقلابی گارڈز کی پریڈ پر حملوں میں ابوکمال سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند ملوث تھے۔ تہران پریڈ حملے میں 25 افراد مارے گئے تھے، جن میں متعدد انقلابی گارڈز بھی شامل تھے۔ ایرانی بیان کے مطابق مغربی ایران سے البوکمال میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر چھ میزائل داغے گئے، جب کہ ڈرونز کی مدد سے بھی انہیں نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کارروائی میں متعدد عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

جواب چھوڑیں