عدلیہ کی آزادی قائم ہے‘چیف جسٹس دیپک مشراکا وداعی خطاب

چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کی‘ 13ماہ کی ہلچل انگیز میعاد آج اختتام کو پہنچی اور اُنہوںنے آج بحیثیت چیف جسٹس اپنے آخری خطاب میں عدلیہ کی آزادی پر زوردیا اور کہاکہ عدلیہ کی آزادی ’’ قائم ہے اور قائم رہے گی ‘‘۔ اُنہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ کے ججوں کے مابین ’’ کالجیت‘‘ پائی جاتی ہے۔ جسٹس مشرا نے اِس بات پر زوردیاکہ سپریم کورٹ‘برتر(سپریم) موقف کی حامل ہے۔ انصاف کو ’’ انتشار پسندانہ عوامل ‘‘ سے جداکرنا چاہئے اورجہاں تک ممکن ہو‘ انصاف کے ترازو کو متوازن رہنا چاہئے کیونکہ یہی تو انصاف کی اصل روح ہے۔ اُنہوںنے مزید کہاکہ ’’ کسی کے جارحانہ نقاط نظر کے سبب یہ ( ترازو) کسی طرف جُھک نہیں سکتی۔ مجسمہ انصاف کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے جو غیر جانبداری کی علامت ہے‘ کیونکہ ہر کیس خواہ وہ عظیم تر یا قلیل تر مضمرات کا حامل ہو‘ ہمارے لئے ایک ہی ہے‘‘۔ جسٹس مشرا نے کہاکہ انصاف کی‘ ایک ا نسانی شکل ہونی چاہئے اور انسانی طریقہ کار اپنایاجانا چاہئے۔ چیف جسٹس کے یہ ریمارکس‘ ایک وداعی تقریب کے دوران سامنے آئے۔ اِس تقریب کا اہتمام‘ سپریم کورٹ لائیرس اسوسی ایشن نے کیا تھا۔ اِس سے قبل نامزد چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس رنجن گوگوئی نے کہاکہ عدلیہ کے تعلق سے ججوں اور قانون دانوں کے فریضہ کو وقت کی کسوٹی پر کھرا اُترنا ہے۔ قبل ازیں موصولہ اطلاع کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا نے پیر کے دن کہا کہ ہندوستانی عدلیہ دنیا کی طاقتور ترین عدلیہ ہے اور نوجوان وکلا اس کے اثاثے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری عدلیہ بے شمار کیسس سے نمٹنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ سی جے آئی منگل کو سبکدوش ہورہے ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے احاطہ میں وداعی تقریب سے خطاب میں کہا کہ انصاف کا انسانی چہرہ ہونا چاہئے۔ تاریخ کبھی مہربان اور کبھی بے رحم ہوتی ہے۔
میں لوگوں کو ان کی تاریخ سے نہیں پرکھتا بلکہ ان کی سرگرمیوں اور ان کے تناظر سے جانچتا ہوں۔ جج کی حیثیت سے میرے پورے کیرئیر میں میرا رشتہ مساوات کی دیوی سے کبھی نہیں ٹوٹا۔ جسٹس رنجن گوگوئی نے جو اگلے چیف جسٹس ہیں‘ جسٹس دیپک مشرا کی سیول لبرٹیز کے لئے خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے ان کے حالیہ فیصلوں کا حوالہ دیا۔ جسٹس گوگوئی چہارشنبہ کو نئے چیف جسٹس آف انڈیا کی حیثیت سے حلف لیں گے۔

جواب چھوڑیں