میرٹھ میں ایک ہندولڑکی پر حملہ کرنیوالےپولیس جوانوں کا تبادلہ ‘’’سزاء سے زیادہ انعام ‘‘؟

میرٹھ‘ یوپی میں ایک ہندو لڑکی اور اُس کے مسلم دوست کو ‘ دائیں بازو کے سرگرم کارکنوں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے بعد پولیس والوں کی جانب سے مذکورہ لڑکی پر حملہ کئے جانے کا ویڈیو منظر عام پر آنے کے ایک ہفتہ بعد ریاستی نظم ونسق نے عملی قدم اُٹھاتے ہوئے مذکورہ پولیس عملہ کا تبادلہ‘ گورکھپور کو کردیا ہے جو چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کا گڑھ ہے۔ تاہم مذکورہ پولیس جوانوں کے تبادلہ پر اعتراض بھی کئے گئے ہیں اور بہت سے افراد کا خیال ہے کہ یہ ( تبادلہ) سزاء سے کہیں زیادہ ایک انعام ہے۔ اِس زیادہ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ دائیں بازو کی تنظیم وشواہندوپریشد سے مبینہ طورپروابستہ ایک بھی حملہ آور کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ 18حملہ آوروں کے منجملہ بعض کو ‘ مذکورہ مسلم شخص کو مارپیٹ کرتے ہوئے ‘ کیمرہ پر واضح طورپر دیکھا گیا۔ مذکورہ ’’ وی آئی پی ‘‘ٹرانسفر کی اطلاع سے دوہی روز قبل ریاستی پولیس چیف اوپی سنگھ نے مذکورہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد عاجلانہ کارروائی کا تیقن دیا تھا اور ٹوئیٹر پر کہا تھا کہ ’’ میرٹھ کا واقعہ ‘ چند ایک گمراہ پولیس جوانوں کی سنگین ناعاقبت اندیشی تھی۔ یوپی کے پولیس جوانوں کے اِس غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پولیس والوں کا کام‘ راست بازی کے اعلیٰ میعارات کو برقراررکھنا ہے۔ اصلاحی کارروائی کی جارہی ہے‘‘۔

جواب چھوڑیں