ناانصافیوں کیخلاف بلند آواز کو غداری سے تعبیر کرنے کی منظم سازش:: کنہیا کمار

ملک میں ڈھائی افراد کی حکومت ہے جو ملک کے پارلیمانی و جمہوری نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ ایک منظم سازش کے تحت عوام کی اہمیت کو ختم کیا جارہا ہے۔ کارپوریٹ گھرانوں کے مفادات کی تکمیل کو قوم پرستی اور حکومت کی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کو ملک سے غداری قرار دیا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر کنہیا کمار نے آج سندریا وگنانا کیندرم باغ لنگم پلی میں روز نامہ سیاست کے زیر اہتمام منعقدہ سیاست توسیعی لکچر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمراں نئے انداز میں انگریزوں کی چالوں پر عمل کررہے ہیں جو لوگ جنگ آزادی کے وقت انگریزوں کے ساتھ چائے پر چرچہ کررہے تھے‘ آج وہی لوگ انگریزوں کی پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو پالیسی کو ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے ’’گمراہ کرو اور حکومت کرو ‘‘کے نظریہ پر عمل پیرا ہیں۔ اس پالیسی کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے‘ اذیتیں دی جارہی ہیں۔ مخالفت کی آواز دبائی جارہی ہے۔ گذشتہ ساڑھے چار برسوں کے دوران اس حکومت نے کچھ بھی ایسا اچھا کام نہیں کیا۔ اس کے برخلاف ملک میں گائے کے نام پر قتل کیا جانا‘ غیر ضروری باتوں کو اہمیت دینے کو معمول بنادیا گیا۔ موجودہ حکومت کی نظر میں انسان کی اہمیت باقی نہیں رہی۔ وزیراعظم ‘ اسرائیل کا دورہ کرسکتے ہیں‘ دوسرے ممالک کے صدور سے ملاقات کرسکتے ہیں مگر ان کے پاس اخلاق‘ نجیب‘ جنید اور روہت کے افراد خاندان سے ملاقات کے لئے وقت نہیں ہے۔ موجودہ وزیراعظم چونکہ ایک مخصوص سوچ و نظریہ کے مالک ہیں۔ اس لئے اس نظریہ کو برقرار رکھنے کے لئے وہ عدم مساوات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ملک کے عوام کو فرقہ پرستی ‘ ذات پات کے کھیل میں الجھایا جارہا ہے۔ صرف دستور ہی کو نہیں بلکہ دستور کے وہ تمام سیکولر نظریات جن سے مساوات کا درس ملتا ہے‘ کا قتل کیا جارہا ہے۔ وزیراعظم کے نظریات کو منظم انداز میں فروغ دیا جارہا ہے تاکہ عام آدمی کی سوچ دوسری طرف مائل نہ ہو۔ ان خبروں کو چھپایا جارہا ہے جس سے عام آدمی فکرمند ہوسکے۔ جیسے مکیش امبانی کی یومیہ آمدنی 300 کروڑ ہے جس دن یہ خبر سامنے آئی اسی دن ملک کے دارالخلافہ میں گٹر (ڈرین) صاف کرتے ہوئے 5 افراد کی موت ہوجاتی ہے۔ وجئے مالیا ملک کو 9000 کروڑ روپے کا چونا لگاکر فرار ہوجاتا ہے اس کے بعد بھی وزیر اعظم اور مرکزی وزیر فینانس جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ہیں۔ لال قلعہ سے بھی جھوٹ بولتے ہوئے ملک کے وقار کو مجروح کیا جارہا ہے۔ ملک کے عوام کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھتے ہوئے مریخ پر جانے کی بات کی جاتی ہے۔ کنہیا کمار نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنی ہر ناکامی کے لئے سابق کانگریس حکومت کو ذمہ دار قرار دینے کواپنا معمول بنالیا ہے۔ مگر وہ اس حقیقت کو بھول گئی ہے کہ اگر عوام کانگریس سے ناراض نہ ہوتے تو بی جے پی کو کس طرح اقتدار حاصل ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت Privatisation of Profits & Socialisation of Loss کے نظریہ پر عمل کررہی ہے۔ جہاں وجئے مالیا‘ نیرو مودی کی جانب سے لوٹی گئی دولت کو عام آدمی سے وصول کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ ملک میں مسلمانوں کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو سب سے آسان نشانہ بناکر انہیں ہراساں کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں سے ان کی غلطی کا نہیں بلکہ اسامہ لادن اور بابر کی غلطیوں کا بدلہ لیا جارہا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ حالات سے مایوس نہ ہوں بلکہ سوال کرنے والوں سے سوال کریں کہ آیا گاندھی جی کا قاتل ایک ہندو تھا تو کیا سارے ہندو دہشت گرد ہوگئے؟ کنہیا کمار نے کہا کہ موجودہ حکمران ‘ مذہب کے اصل جز انسانیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ملک کے عوام کو حکمران جماعت کی سازشوں‘ ملک کے دستور کو تبدیل کرنے کی کوشش کو سمجھنے اور اس صورتحال سے ملک کو نکالنے ‘ گنگا جمنی تہذیب کے تحفظ کے لئے ذمہ داری قبول کرنے کی اپیل کی۔ قبل ازیں سی پی آئی قائد و سابق رکن پارلیمنٹ سید عزیز پاشاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں امن و آمان اور بھائی چارہ کے لئے جانے جانا والا ملک ہندوستان مشکل دور سے گذر رہا ہے۔ ملک میں مذہب ذات پات کے نام پر نفرت کو فروغ دیا جارہا ہے۔ اس عظیم ملک کو غیر انسانی حرکتوں سے بدنام کیا جارہا ہے۔ اگرچہ کہ ہندوستان ‘دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے مگر ہندوستان میں جمہوریت کا ہی گلا گھونٹا جارہا ہے۔ اگرچہ کہ موجودہ حکمراں سوامی وویکانند کی تعلیمات اختیار کرنے کی بات کرتے ہیں مگر یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اگر آج سوامی وویکانند اور گاندھی جی بقید حیات ہوتے تو بی جے پی کے نظریات سے نفرت کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو لنچستان میں تبدیل کردیا گیا اور ان حرکتوں میں ملوث افراد آزاد گھوم رہے ہیں۔ ان حالات پر عوام کو غورو فکر کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے سابق رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اگر نریندر مودی کو دوبارہ اقتدار حاصل ہوتا ہے تو قوی امکان ہے کہ ملک کا دستور ختم ہوجائے گا اور 2019 کے انتخابات سیکولر ملک کے آخری انتخابات ثابت ہوں گے۔ اس پروگرام سے سی پی آئی کے اسٹیٹ سکریٹری سی وینکٹ ریڈی نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر ایڈیٹر روز نامہ سیاست زاہد علی خان ‘ سابق ڈی جی پی سید انور الہدیٰ کے علاوہ عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔

جواب چھوڑیں