پاکستان کو زرتلافی نہ دیا جائے:انوراگ ٹھاکر

ہندوستانی کرکٹ بورڈ اور پاکستان کرکٹ بورڈ درمیان ہر جانہ کیس کی 3 روزہ سماعت آج دبئی میں شروع ہوئی۔ آئی سی سی تقریباً 500 کروڑ روپے کے ہرجانہ کیس کی سماعت کرے گی۔ حیرت انگیز طورپر پی سی بی کے سابق صدر نجم سیٹھی اس کیس کو جیتنے کا دعویٰ کرچکے ہیں تاہم ہندوستانی کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں نے تو سماعت کو غیرضروری سمجھتے ہوئے اس میں شرکت سے بھی انکار کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان نے ہندوستان پر باہمی کرکٹ سیریز کھیلنے کیلئے مفاہمتی یادداشت کے سمجھوتے پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے آئی سی سی میں زرتلاقی کیلئے رجوع کیا تھا۔ ہندوستانی کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ انو راگ ٹھاکر نے کہاکہ بی سی سی آئی سے کسی بھی عہدیدار کو سماعت میں جانے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی پی سی بی کو ہرجانہ دیا جائے۔ واضح رہے کہ پی سی بی کے وکلاء میں لندن سے الیگزینڈر پینڈاز بھی دبئی پہنچ چکے ہیں۔ قانونی ٹیم میں احمد حسین، ابراہیم حسین اور سلمان نصیر بھی شامل ہیں۔ چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد بھی سماعت میں موجود ہوں گے جبکہ بورڈ نے سابق چیرمین نجم سیٹھی کو دبئی بلایا ہے جو گواہ کے طورپر پیش ہوں گے۔ انو راگ ٹھاکر نے کہاکہ کئی سال سے پاکستان میں کئی ٹیمیں مقابلوں کیلئے جانے کو تیار نہیں کیونکہ وہاں پر غیرملکی کھلاڑیوں کو سیکوریٹی خدشات ہیں۔ یکم اکتوبر سے شروع ہونے والی سماعت کے تعلق سے آئی پی ایل کے سابق چیرمین راجیو شکلا نے کہاکہ جہاں تک پی سی بی اور بی سی سی آئی کے کیس کا تعلق ہے دونوں بورڈز کو معاملہ آپس میں مل بیٹھ کر حل کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ آئی سی سی میں اس تنازعہ کو نہیں لے جانا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہاکہ بی سی سی آئی پاکستان سے کھیلنے کیلئے تیار ہے لیکن دیگر معاملات حائل ہوجاتے ہیں اور پاکستان کے خلاف کرکٹ کھیلنے کیلئے بھی حکومت سے اجازت کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں