ہندوستان کا پڑوسی ملک دہشت گردی میں معاون ۔ بین الاقوامی حقوق کانفرنس سے وینکیا نائیڈو کا خطاب

نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ دنیا کو دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں متحد ہوجانا چاہیے اور اقوامِ متحدہ پر زور دیا کہ وہ طاقتور اور ضوابط پر مبنی اقدامات کے ساتھ آگے آئیں ، تاکہ دہشت گردی اس کے سرپرستوں ، اس کے لیے مالیہ فراہم کرنے والوں اور اس میں مدد دینے والوں سے نمٹا جاسکے ۔ نائیڈو نے یہاں ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کا ایک پڑوسی ملک امن کی بات تو کرتا ہے ، لیکن دہشت گردی میں مدد کرتا ہے۔ وہ پاکستان کا درپردہ حوالہ دے رہے تھے۔ نائیڈو نے یہاں دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے انسانی حقوق قائدین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی انسانیت کی دشمن ہے۔ بعض عناصر مذہب کے نام پر دہشت گردی پھیلا رہے ہیں ، لیکن کوئی بھی مذہب تشدد کی بات نہیں کرتا ۔ ہندوستان نے اس درد کو سہا ہے ۔ مغرب نے اس مسئلہ کو اس وقت تسلیم کیا جب وہ خود اس کا شکار ہوئے ۔ ہمارے خطہ میں بھی ہمارا ایک پڑوسی ملک دہشت گردی کے لیے مالیہ فراہم کرتا ہے ، دہشت گردوں کی تربیت کرتا ہے اور وہ امن کی بات بھی کرتا ہے ۔ دہشت گردی اور بات چیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ نائب صدر جمہوریہ نے اپنی چالیس منٹ طویل تقریر میں دنیا سے اپیل کی کہ وہ متحدہ آواز میں بات کرے ، تاکہ عالمی سطح پر دہشت گردی کا متحدہ مقابلہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد دہشت گردی کے مسئلہ پر غور و خوض مکمل کرے اور مضبوط ، متحدہ اور ضوابط پر مبنی کارروائی کے ساتھ آگے آئے ، تاکہ دہشت گردی ، اس کے سرپرستوں اور اس کے لیے مالیہ فراہم کرنے والوں اور مدد کرنے والوں سے نمٹا جاسکے۔ امن اور عوام کے حقوق کے تحفظ کا یہی ایک واحد راستہ ہے۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے اپنی سلور جوبلی تقاریب کے ایک حصہ کے طور پر اس کانفرنس کا اہتمام کیا ہے۔ بیرونی شراکت داروں نے افغانستان ، نیپال ، بنگلہ دیش کے انسانی حقوق اداروں کے سینئر عہدیدار اور اسکاٹ لینڈ ، کروشیا و دیگر ممالک کے نمائندے شامل ہیں۔ نائیڈو نے یہ بھی کہا کہ انسانی حقوق سے متعلق دفعات کا بے جا استعمال بھی حالیہ عرصہ میں باعث ِ تشویش بن چکا ہے ۔ بعض افراد دوسروں کو ہلاکت کرتے ہیں ، عوامی املاک کو تباہ کرتے ہیں اور پھر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟ اسے ختم کیا جانا چاہیے ؟ دہشت گردوں کو ، انتہا پسندوں کو ختم کیا جانا چاہیے۔ انسانی حقوق باہمی خصوصی زمروں میں نہیں ہوسکتے ۔ کوئی بھی شخص دوسرے کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔ نائیڈو نے کہا کہ ملک اور اس کے شہریوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے انسانی حقوق سے استفادہ کیا جاتا ہے ۔ ان کے سبب ملک اور قوم کے خلاف بلا روک ٹوک کچھ بھی کہنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ جمہوریت میں اختلاف ٹھیک ہے ، لیکن یکجہتی کو ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ آپ تشدد میں ملوث نہیں ہوسکتے ، لوگوں کو ہلاک نہیں کرسکتے اور پھر انسانی حقوق کے تحت تحفظ کا دعویٰ نہیں کرسکتے۔

جواب چھوڑیں