ہند۔ازبکستان 1بلین ڈالر کی باہمی تجارت کا نشانہ

ہندوستان اور ازبکستان نے ایک بلین امریکی ڈالر کی باہمی تجارت کا نشانہ مقرر کیا ہے جو اندرون 2 سال پورا کرلیا جائے گا۔ دونوں ممالک نے کنکٹیویٹی (ارتباط) بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی اور نئی دہلی میں پیر کے دن وزیراعظم نریندر مودی اور صدر ازبکستان شوکت مرزیوف کی زیرقیادت وفد سطح کی بات چیت کے بعد 17 معاہدوں پر دستخط کئے۔ دونوں ممالک نے اپنی اسٹراٹیجک پارٹنرشپ کو مزید مستحکم کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی جس سے وسط ایشیا کے ساتھ ہندوستان کا تال میل بڑھ جائے گا۔ صدر مرزیوف کے ساتھ میڈیا سے مشترکہ خطاب میںمودی نے کہا کہ ہم نے سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ 2020 تک ایک بلین امریکی ڈالر کی باہمی تجارت کا نشانہ طے ہوا ہے۔ ہندوستان اور ازبکستان کی باہمی تجارت فی الحال لگ بھگ 350ملین امریکی ڈالر کی ہے۔ نیا نشانہ 6 گنا اضافہ ہے۔ مودی نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان نے فیصلہ کیا ہے کہ ازبکستان کو ہاؤزنگ اور دیگر سوشیل انفرااسٹرکچر پراجکٹس کے لئے 200ملین امریکی ڈالر کا قرض دیا جائے۔ ہم نے ازبکستان کو خلا‘ وسائل انسانی اور انفارمیشن ٹکنالوجی شعبوں میں بھی مدد تجویز کی ہے۔ کنکٹیویٹی بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی۔ اس سلسلہ میں مودی نے ایران کے چابہار پراجکٹ کی اہمیت پر زور دیا جسے ہندوستان‘ ایران اور افغانستان مشترکہ طورپر فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ازبکستان نے انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈار (آئی این ایس ٹی سی) کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ آئی این ایس ٹی سی 7200 کیلو میٹر طویل ملٹی ماڈل نیٹ ورک ہے ۔ اس کے تحت بحری جہاز اور ٹرین چلتی ہے۔ بری راستے بھی اس کے تحت ہیں۔ یہ پراجکٹ ہندوستان ‘ ایران‘ افغانستان‘ آرمینیا‘ آذربائیجان‘ روس‘ وسط ایشیا اور یوروپ کے مابین مال و اسباب کی منتقلی کے لئے ہے۔ سابق صدر ازبکستان اسلام کریموف کے 2011 میں دورہ ہند کے دوران ہندوستان اور ازبکستان کے تعلقات اسٹراٹیجک پارٹنرشپ میں بدلے تھے۔ مودی نے کہا کہ آج کی بات چیت میں اہمیت کے حامل علاقائی امور بھی زیربحث آئے جو ہماری سلامتی‘ امن‘ خوشحالی اور تعاون سے جڑے ہیں ۔ دونوں ممالک نے شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن(ایس سی او) میں تعاون بڑھانے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ دفاعی تعاون کے تعلق سے ہندوستان اور ازبکستان نے مشترکہ فوجی مشقوں پر بات چیت کی۔ مودی نے کہا کہ ہندوستان اور ازبکستان محفوظ اور خوشحال خارجی ماحول چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستحکم‘ جمہوری اور خوشحال افغانستان پورے خطہ کے لئے فائدہ مند ہوگا۔ صدر شوکت مرزیوف نے کہا کہ ہند۔ ازبکستان اسٹراٹیجک پارٹنرشپ تاشقند کی خارجہ پالیسی کے لئے اہم ہے۔ آج جو 17 معاہدوں پر دستخط ہوئے ان میں سیاحت‘ فوجی تربیت‘ قانون‘ زراعت‘ سائنس‘ اختراع‘ صحت اور فارما کے شعبے شامل ہیں۔ صدر شوکت مرزیوف 2016 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد ہندوستان کے پہلے سرکاری دورہ پر اتوار کو نئی دہلی پہنچے تھے۔ یو این آئی کے بموجب ہندوستان اور ازبکستان نے 17 یادداشت مفاہمت اور معاہدوں پر پیر کے دن دستخط کئے۔ دونوں ممالک نے مانا کہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری جمہوریہ ازبکستان اور کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریز (سی آئی آئی) کے درمیان تعاون بڑھایا جائے تاکہ انڈیا۔ ازبکستان بزنس کونسل قائم ہو۔ وزیراعظم مودی نے صدر مرزیوف کو خاص دوست قراردیا اور کہا کہ ہم دونوںنے بامعنی بات چیت کی جس سے دونوںممالک کی اسٹراٹیجک پارٹنرشپ کو مستحکم کرنے میں مددملے گی۔ ازبک صدرسے مودی کی یہ چوتھی ملاقات ہے۔

جواب چھوڑیں