ایران کو نئے انقلاب یا بغاوت کا سامنا ہوسکتا ہے: محمد خاتمی

ایران کے سابق صدر محمد خاتمی نے خبر دار کیا ہے کہ اگر ملک جس بحرانی صورت حال سے گذر رہا وہ برقرار رہی تو ایران میں ایک نیا انقلاب یا بغاوت پھوٹ سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق عراق۔ ایران جنگ کے زخمیوں سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر اوراصلاح پسند قائد محمد خاتمی کا کہنا تھا کہ ’جب عوام ملک کے حالات سے نا خوش ہوں اور کوئی ان کے مسائل سننے کے لیے تیار بھی نہ ہو، ان کی ضروریات پوری کرنے میں کوتاہی برتی جائے، مذاکرات کے تمام دروازے بند ہوں، تنقید اور آزادی اظہار کو غیرقانونی طریقے سے دبایا جائے تو انقلاب یا بغاوت مقدر بن جاتے ہیں‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ایرانی عوام کے تاریخی مطالبات پورے کرنے کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ میں یہ سوال پوچھتا ہوں کہ آیا ایران میں آزادی اظہار کے لیے کوئی مناسب ماحول فراہم کر دیا گیا ہے؟وہ خود ہی اپنے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایران میں آج بات چیت اور مثبت تنقید کے دروازے بھی بند کردیے گئے ہیں۔ اگر کوئی ملک کے حالات بہتر کرنے کی بات کرتے ہوئے حکمرانوں کی نشاندہی کرتا ہے تو اس پر الزامات کی لمبی فہرست عاید کردی جاتی ہے۔

جواب چھوڑیں