برہم احمد صالح عراق کے نئے صدر منتخب

عراق کے آئین کے تحت اب عبدالمہدی کے پاس اپنی کابینہ تشکیل دینے اور پارلیمان سے اس کی توثیق کے لیے 30 دن کا وقت ہے۔عراق کی پارلیمان نے کرد سیاست داں برہم احمد صالح کو ملک کا نیا صدر منتخب کرلیا ہے جنہوں نے اپنے انتخاب کے فوراً بعد شیعہ اتحاد کے نامزد امیدوار عادل عبدالمہدی کو حکومت بنانے کی دعوت دے دی ہے۔ملک کے دونوں اہم عہدوں پر تقرریوں کے بعد عراق میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری سیاسی بحران ختم ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔عراق میں مئی میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد سے سیاسی بحران جاری تھا اور شیعہ اکثریتی جماعتیں وزیرِ اعظم کے نام پر اختلافات کا شکار تھیں۔عراق میں 2003ء میں سابق صدر صدام حسین کی حکومت کے خاتمہ کے بعد سے حکومت میں اختیارات ملک کے تینوں بڑے نسلی اور مذہبی گروہوں کے مابین تقسیم ہیں۔اختیارات کی اس تقسیم کے تحت ملک کا صدر کرد النسل ہوتا ہے جب کہ وزیرِ اعظم کا طاقتور ترین عہدہ شیعہ جماعتوں کے امیدوار کو سونپا جاتا ہے۔ پارلیمان کے اسپیکر کا تعلق سنی جماعتوں سے ہوتا ہے۔کل پارلیمان کے اجلاس میں ایوان کی بھاری اکثریت نے 58 سالہ برہم صالح کو ملک کا 9 واں صدر منتخب کرلیا۔برہم اس سے قبل عراقی کردستان کی نیم خودمختار حکومت کے وزیرِ اعظم اور عراق کی وفاقی حکومت میں نائب وزیرِ اعظم رہ چکے ہیں۔صدر صالح نے اپنے عہدہ لینے کے دو گھنٹے کے اندر ہی پارلیمان کی شیعہ جماعتوں کے متفقہ امیدوار عادل عبدالمہدی کو حکومت بنانے کی دعوت دے ڈالی۔کئی ماہ سے جاری مشاورت اور رابطوں کے بعد نئی پارلیمان میں شیعہ جماعتوں کے دونوں بڑے اتحادوں نے متفقہ طور پر عادل عبدالمہدی کو وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا تھا۔انہیں شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر اور موجودہ وزیرِ اعظم حیدر العبادی کی جماعتوں کے اتحاد ‘اصلاح’ کے علاوہ ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا رہنما ہادی العامری اور سابق وزیرِ اعظم نوری المالکی کے سیاسی اتحاد ‘بِنا’ کی حمایت بھی حاصل ہے۔

جواب چھوڑیں