بی سی سی آئی کیخلاف ہرجانہ مقدمہ کی 3 روزہ سماعت مکمل

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب بی سی سی آئی پر ہرجانہ کے مقدمہ کی 3 روزہ سماعت کا آج اختتام عمل میں آیا۔ اطلاعات کے مطابق مقدمہ کا فیصلہ آئندہ 10 تا 15 دنوں میں آسکتا ہے۔ پی سی بی نے 8 برس میں 6 باہمی سیریز کھیلنے سے انکار پر بی سی سی آئی کے خلاف 447 کروڑ روپے ہرجانہ کا مقدمہ دائر کیاہے۔ سماعت کے دوسرے روز بی سی سی آئی نے اپنے ’’ ٹرمپ کارڈ‘‘ کے طورپر سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید کو پیش کیا۔ دیگر مصروفیات کی وجہ سے ان کا بیان سب سے پہلے ریکارڈ کیاگیا۔ ہندوستانی بورڈ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ سلمان خورشید کی کمیٹی میں آمد پی سی بی کیلئے بڑی حیرت کا باعث تھی۔ وہ توقع نہیں کررہے تھے کہ ایک سابق وزیر خارجہ بھی تنازعہ کے حوالہ سے حقیقت واضح کرنے کیلئے پیش ہوسکتا ہے۔ سلمان خورشید نے کمیٹی کو بتایاکہ ممبئی حملوں کے بعد ہندوستانی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کرنے سے کیوں گریز کیا۔ 2014 میں یو پی اے کی حکومت میں وزیر خارجہ رہنے والے سلمان خورشید نے بتایاکہ پڑوسی ملک میں کھیلنے کے سیکوریٹی خدشات پر ہم نے دنیا کی مختلف انٹیلی جنس ایجنسیز سے رابطہ کیا۔ دہشت گردوں کے متعدد حملوں کو دیکھتے ہوئے اس وقت ٹیم کو روانہ کرنا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے یہ موقف بھی دہرایا کہ جب تک ہندوستان میں سرحد پار سے دہشت گردی ختم نہیں ہوتی باہمی کرکٹ سیریز ممکن نہیں۔ ہندوستانی بورڈ عہدیدار نے سلمان خورشید کے کمیٹی کے سامنے اختیار کئے جانے والے موقف کی تفصیلات میڈیا کو جاری کیں۔ انہوں نے کہاکہ پی سی بی کے سارے کیس کی بنیاد سابق سکریٹری بی سی سی آئی سنجے پٹیل کی جانب سے ہونے والی ایک صفحہ کی ای میل ہے۔ ایک تو یہ ایم او یو نہیں لہذا کوئی قانونی حیثیت نہیں، دوسرے سنجے پٹیل نے بگ تھری کی حمایت کا تقاضا کیا تھا، پی سی بی نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ یاد رہے کہ ہندوستانی کرکٹ بورڈ نے دفاع کیلئے اپنے سابق صدر اور موجودہ چیرمین آئی سی سی ششناک منوہر، سابق چیف اگزیکٹیو آفیسر سندر رامن، سابق جنرل منیجر رتناکر شیٹی، سابق سکریٹری سنجے پٹیل کے نام دیے تھے۔ ان سب کے نام اس تنازعہ سے کسی نہ کسی طورپر جڑے ہوئے ہیں، ابھی تک سلمان خورشید کا کمیٹی میں دیاگیا بیان سامنے ایا ہے۔

جواب چھوڑیں