دہلی میں کسانوں کا احتجاج ختم

 دہلی۔ اترپردیش سرحد پر احتجاجی کسانوں اور پولیس کا ٹکراؤ کل رات ختم ہوگیا۔ احتجاجیوں کا حکومت سے سمجھوتہ ہوگیا اور انہیں کسان گھاٹ (سابق کسان قائد اور وزیراعظم چودھری چرن سنگھ کی یادگار) تک مارچ کرنے دیا گیا۔ ہری دوار تا دہلی10 روزہ کسان کرانتی یاترا نکالنے والی بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) نے کہا کہ وہ اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھ پائی۔ مطالبات نہیں مانے گئے تو پھر احتجاج ہوگا۔ بی کے یو قائد راکیش ٹکیت نے آئی اے این ایس سے کہا کہ مارچ کا مقصد حکومت کو کسانوں کے مسائل سے واقف کرانا تھا اور یہ مقصد پورا ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کل رات کسان گھاٹ گئے کیونکہ مارچ وہیں ختم ہونا تھا۔ ہم حکومت کے سامنے اپنی بات / مطالبات رکھنے میں کامیاب رہے۔ اب فیصلے کرنا حکومت کا کام ہے۔ حکومت نے ہمارے مطالبات پورے نہیں کئے تو پھر احتجاج ہوگا۔ کسان آئے اور انہوں نے اپنی آواز بلند کی۔ کام ہوگیا‘ یہ بہت بڑا مارچ تھا۔ منگل اور چہارشنبہ کی درمیانی رات مرکزی حکومت نے احتجاجی کسانوں کو دہلی میں داخل ہونے دیا۔ اس طرح پولیس اور احتجاجیوں کا ٹکراؤ ختم ہوگیا۔ احتجاجی پیر کے دن اترپردیش۔ دہلی سرحد پہنچے تھے۔ منگل کے دن احتجاج پُرتشدد ہوگیا تھا کیونکہ کسانوں نے پولیس کی کھڑی کردہ رکاوٹیں ٹریکٹرس کے ذریعہ ہٹاکر قومی دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ پولیس کو آبی توپیں اور آنسو گیس شل استعمال کرنا پڑا تھا۔ صدر بی کے یو نریش ٹکیت کی قیادت میں 400 سے زائد ٹریکٹرس میں ہزاروں کسان رات لگ بھگ 2 بجے کسان گھاٹ پہنچے ۔ ٹکیت نے اسے کسانوں کی جیت قراردیا اور کہا کہ بی جے پی حکومت اپنے ’’مقاصد‘‘ میں ناکام رہی۔ تمام مشکلات کے باوجود کسان ڈٹے رہے۔ ہمارے مارچ کو اب 12 دن ہوگئے ہیں۔ کسان تھک بھی گئے ہیں۔ فی الحال ہم مارچ ختم کررہے ہیں۔ ہم اپنے حقوق مانگتے رہیں گے۔ صبح لگ بھگ 5:30 بجے کاشتکار‘ کسان گھاٹ سے منتشر ہونے لگے۔

جواب چھوڑیں